ایم کیو ایم پاکستان کے مجوزہ استعفے، سنجیدہ معاملہ یا بلیک میلنگ؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے حالیہ ڈیجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے قانون سازوں سے استعفے وصول کرلیے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) نے اپنے اراکین قومی اسمبلی (ایم این ایز) اور سینیٹرز سے استعفے جمع کر لیے ہیں اور آئندہ مشاورتی اجلاس میں استعفے جمع کرانے کا وقت طے کریں گے، یہ اقدام اس خط کے فوری بعد سامنے جو سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے صدر عارف علوی کے نام لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم شہباز شریف سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری تو ایک بہانہ ہے اصل میں ایم کیو ایم پاکستان ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو کیش کرانا چاہتی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس گذشتہ روز کنوینر خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، نسرین جلیل، انیس قائم خانی اور دیگر سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے مجرم اور فارن فنڈڈ پارٹی کے لیڈرسےمذاکرات کیوں کریں؟ اسعد محمود

حکومت مذاکرات کیلیے بااختیار نہیں، اداروں میں آج بھی عمران خان کے سہولت کار ہیں، جاوید لطیف

ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین قومی اسمبلی ، اراکین سندھ اسمبلی اور سینیٹرز نے سندھ بالخصوص کراچی میں ڈیجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ، کانفرنس کے دوران اپنے استعفے پارٹی قیادت کو بھجوا دئیے۔

جیو نیوز کے معروف رپورٹر اعزاز سید نے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم این ایز اور سینیٹر کی جانب سے استعفے کی خبر کو رپورٹ کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے ترجمان کے مطابق کنوینر خالد مقبول صدیقی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، تنظیمی اور مردم شماری کے اعدادوشمار سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔

رابطہ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں جاری مردم شماری کے حوالے سے حکمرانوں کے غیر سنجیدہ رویے پر شدید تنقید کی۔ رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ بے ضابطگیوں کے شواہد کے باوجود درست اعدادوشمار پیش نہیں کیے جا رہے جو کہ باعث تشویش ہے۔

ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے وزیراعظم شہباز شریف کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے صدر مملکت کو مراسلہ ارسال کردیا تھا۔

سابق وزیر شیخ رشید احمد نے اپنے وکیل اظہر صدیق کی وساطت سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ ارسال کیا تھا۔

مراسلے میں لکھا گیا ہےکہ الیکشن کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے ، قومی اسمبلی سے فنڈز منظور نہ کروا کر وزیراعظم اکثریت کھو چکے ہیں۔ اس لیے صدر مملکت وزیراعظم کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت جاری کریں۔

بہرحال ایم کیو ایم پاکستان کے استعفوں کی بازگشت پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پرانی روایات کے مطابق استعفے جمع کرلیے ہیں۔ اب متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کریں گے اور ڈیجیٹل مردم شماری پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کریں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رابطہ کمیٹی کی جانب سے ترپ کا پتا اس وقت کھیلا گیا ہے جب شیخ رشید کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مردم شماری تو اک بہانہ ہے اصل میں متحدہ بلیک میلنگ سے اپنی قیمت بڑھانا چاہتی ہے۔

متعلقہ تحاریر