جنہوں نے مجھے اٹھانے کا حکم دیا اوپر کے دونوں لوگوں کو جانتا ہوں، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جن سویلینز نے مجھے اٹھانے کا حکم دیا ان میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ تھے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ 27 سالہ جدوجہد کے دوران ہمیشہ پُرامن رہنے کی تلقین ہے ، کہتے ہیں کہ میں 25 مئی کو کبھی نہیں بھول سکتا جب ریاست نے پی ٹی آئی کے حامیوں اور کارکنوں پر تشدد کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 مئی کو میرے کارکنان پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں نے مجھے بتایا کہ اوپر سے انہیں ہینڈلرز سے آرڈر ملے تھے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ تشدد کو روکنا چاہتے ہیں اسی لیے انہوں نے 25 مئی کو ریاستی مظالم کے بعد اسلام آباد میں دھرنا ختم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے اپنی گرفتاری کے بعد تشدد کو ہوا دینا ہوتی تو گزشتہ سال وزیر آباد میں قاتلانہ حملے کے بعد ہوا دیتا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ الیکشن کروانا چاہتے ہیں وہ کبھی انتشار نہیں چاہیں گے۔ تاہم، وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ ان کا صفایا ہو جائے گا، وہ ایسا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے 

عدالتی فیصلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانی عدلیہ کا 140واں نمبر ہے، عابد شیر علی

فضل الرحمان دفعہ 144 کی موجودگی میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا کیسے دینگے؟

اپنے گھر پر حملے کے حوالے عمران خان کا کہنا تھا کہ کس طرح پولیس نے لاہور میں ان کے گھر پر حملہ کیا جب وہ عدالت میں پیشی کے لیے اسلام آباد گئے تھے۔ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ایک اور قاتلانہ حملے کو ناکام بنایا گیا۔

انہوں نے اس بات کی دلیل دی کہ وہ ملک میں کیوں انتشار چاہیں گے، پی ٹی آئی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جہاں بچوں سمیت خاندان عوامی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ القادر یونیورسٹی کے قیام کا مقصد ملک کے لیے ایسی قیادت پیدا کرنا تھا جو اسلامی تعلیمات سے آشنا ہو۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ نومبر میں کیا گیا تھا اور پھر مئی میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے القادر ٹرسٹ سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹرسٹی کو کبھی بھی کوئی مالی فائدہ نہیں ملتا۔ انہوں نے حال ہی میں برطرف کیے گئے چیئرمین نیب کے ساتھ ساتھ ہینڈلرز پر بھی اپنی اہلیہ کا نام کیس میں شامل کرنے پر تنقید کی۔

اپنی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے جس طرح اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) سے گرفتار کیا گیا سب کے سامنے ہے۔ رینجرز نے مجھے گرفتار کیا جس کو انہیں اختیار ہی نہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا جن لوگوں نے مجھے اٹھاوایا ان سب کو جانتا ہے اوپر کے دونوں کو بھی جانتا ہوں اور دونوں سویلین کو بھی جانتا ہوں۔ سویلین میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ شامل ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے احتجاج کے دوران آتشزدگی اور تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اس نے اپنی گرفتاری کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ہونے والے تشدد کی ویڈیو بھی چلائیں۔

عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے 3500 سے زائد کارکنان قید ہیں اور بہت سے مارے بھی گئے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران تشدد پر اکسانے والے ’ان کے لوگ‘ نہیں تھے اور وہی لوگ تھے جنہوں نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی سنسر شپ کے تحت رکھا گیا تھا، اور ان سب نے ایک ہی بیان بازی کی، جبکہ ہینڈلرز پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘بے وقوف’ ہیں۔

متعلقہ تحاریر