امریکی پالیسیز سے انکار میرے زوال کی وجہ بنیں، عمران خان کا نیوز ویک کو انٹرویو
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے زوال کی وجہ امریکی پالیسیز سے انکار کو قرار دیا ہے۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے میری حکومت کو گرانے کی سازش کی، ان میں سب سے پیش پیش سابق آرمی چیف (قمر جاوید باجوہ) تھے۔ کیونکہ فوجی حلقوں میں یہ تصور زور پکڑ رہا تھا کہ میں خطرناک ہوتا جارہا ہوں۔ انہوں نے کچھ اور وجوہات بھی بتائی۔
ان خیالات کا اظہار چیئرمین تحریک انصاف نے نیوز ویک کے سینئر فارن پالیسی رائٹر اور نیشنل سیکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کے ڈپٹی ایڈیٹر ٹام او کونر کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو بات کرتے ہوئے کیا۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ جس ملک کی وہ قیادت کرچکے ہیں اس وہ خطرناک راستے کی جانب گامزن ہے ، جس کے مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حماد اظہر نے تحریک استحکام پاکستان کی ناکامی کے اسباب بیان کردیے
پرویر خٹک نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کی خبروں کی تردید کردی
نیوز ویک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ "ان کے خیال میں ایک سال قبل اقتدار سے بے دخلی میں امریکہ کا کردار تھا۔”
نیوز ویک کے ڈپٹی ایڈیٹر ٹام او کونر نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ دو سال قبل جب میں نے آپ کا انٹرویو کیا تب وزیراعظم پاکستان تھے ، انٹرویو کے کچھ عرصے بعد آپ کو اقتدار سے بےدخل کردیا گیا ، آپ کو گولی مار دی گئی ہے، آپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور آپ ابھی تک اس مشکل قانونی عمل سے گزر رہے ہیں ، کے درمیان ہیں۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کیا ہوا ہے، اور آپ اس وقت کہاں ہیں؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پاکستان میں منفرد تھا کیونکہ گزشتہ سال 9 اپریل کو میری حکومت کو ہٹا دیا گیا تھا۔ اور 10 اپریل کو جو اس ملک میں کبھی نہیں ہوا، سینکڑوں اور ہزاروں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے حکومت گرانے کی ساری ذمہ داری ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی ، ویسے تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا مطلب ایک آدمی ہوتا ہے۔ فوج میں کوئی جمہوریت نہیں ہوتی ، وہاں صرف ایک آدمی ہوتا ہے جو فیصلے کرتا ہے۔ اور وہ بہت طاقتور ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ برسوں کے دوران پاکستانی آرمی چیف نے ایسی طاقتیں حاصل کرلی ہیں جو شاید دنیا میں کسی اور آرمی چیف کے پاس نہیں ہیں، میرا اندازہ ہے کہ [سوائے] میانمار اور سوڈان جیسی جگہوں پر، لیکن جمہوریتوں میں ایسا نہیں سنا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری معزولی کے بعد لیکن جب لوگ باہر آئے تو میرے سمیت سب لوگ حیران تھے ، ویسے، میں نے لوگوں سے کبھی توقع نہیں کی تھی کیونکہ ہم نے کبھی اس کی منصوبہ بندی نہیں کی۔ یہ ایک بے ساختہ ردعمل تھا۔ اور پھر میں عوام میں گیا، ریلیوں کا ایک سلسلہ تھا، اور یہ سب بڑی ریلیاں تھیں، جو پاکستان میں ہونے والی کسی بھی ریلی سے بڑی تھیں۔ اور پھر ضمنی الیکشن ہوئے۔ تو میری پارٹی جیت گئی۔ 37 ضمنی انتخابات میں سے میری پارٹی نے 30 میں کامیابی حاصل کی، فوج نے حکومت کا ساتھ دیا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آپ کو جتواتی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ دوسری طرف تمام 22 جماعتوں یا 12 جماعتوں کے ساتھ تھی۔ اور اس کے باوجود، ہم نے 30 انتخابات میں کلین سویپ کیا۔
ان کا کہنا تھا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ بڑا واضح تھا ، آرمی چیف اور ان کے مشیروں کو احساس ہوا ، انہوں نے فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ، مجھے واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔
مجھ پر قاتلانہ حملہ اسی کوشش کا حصہ تھا۔ 18 مارچ کو مجھ پر دوسرا قاتلانہ حملہ ہوا۔ 9 مئی کو یہ لوگ مجھے آسانی سے آکر گرفتار کرسکتے تھے ، مجھے وارنٹ گرفتاری دکھا کر آسانی سے گرفتار کرسکتے تھے۔ لیکن مجھے اٹھا لیا گیا جب میں ہائی کورٹ میں بیٹھا ہوا تھا ، میرے خلاف کمانڈو ایکشن کیا گیا ، مجھے اٹھانے کے لیے شیشے کے دروازے توڑ دیئے گئے۔ انہوں نے سب کو مار، میرے سر پر مارا گیا۔
اور پھر وہ مجھے ایسے لے گئے جیسے میں اس ملک کا سب سے بڑا دہشت گرد ہوں، میں اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کا سربراہ ہوں۔ لیکن جب مجھے جیپ میں بٹھایا گیا سب کچھ نارمل ہوگیا سب کا رویہ بہت شائستہ تھا۔
یہ سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا ، کیونکہ وہ ردعمل چاہتے تھے اور ردعمل آیا جس کے نتیجے میں جلاؤ گھیراؤ ہوا ، آتش زنی ہوئی۔ میری پارٹی کو 27 سال ہو گئے ہیں ، ہم کبھی آتش زنی اور تشدد میں ملوث نہیں رہے۔ ہم نے مظاہرے کیے ہیں لیکن کبھی آگ لگانے میں ملوث نہیں رہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب میں جیل میں تھا۔ تین دن یا چار دن بعد، سپریم کورٹ نے مجھے بلایا اور پھر رہا کردیا۔ یہ غیر قانونی تھا، واضح طور پر انہوں نے جو کیا وہ غیر قانونی تھا۔ مجھے گرفتار نہیں اغوا کیا گیا تھا۔
جب میں نے باہر آکر دیکھتا ہوں کہ کور کمانڈر کا گھر جلا دیا جاتا ہے، ایک ٹیلی ویژن ریڈیو اسٹیشن بھی جلا دیا گیا تھا، تو میں کافی حیران ہوا۔ اور میں نے سوچا کہ شاید ہجوم پاگل ہو گیا ہے۔ پھر ہم نے سوچا کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سب جلاؤ گھیراؤ پر منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو لگایا گیا تھا۔
کور کمانڈر ہاؤس سب سے محفوظ گھر ہوتا ہے مگر مشتعل ہجوم نے اسے بھی آگ لگا دی ، یہ سارا عمل دو گھنٹے تک جاری رہا ، مگر کوئی پولیس ایکشن نہیں ہوا ، کسی نے جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کو نہیں روکا۔ ہماری پنجاب پارٹی کی سربراہ وہاں بیٹھی تھیں ، وہ لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کررہی تھیں کہ گھر کے اندر نہ جائیں۔
پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ نہ صرف ہم پر الزام لگایا جاتا ہے، بلکہ اگلے 48 گھنٹوں میری پوری قیادت جیل میں ہوتی ہے۔ لیکن اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ہمارے 10,000 کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔
یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا ہے جب تک اس سب کے پیچھے منصوبہ بندی نہ ہو۔ چونکہ یہ پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اس لیے ہمارے دس ہزار کارکنان فوجی آپریشن کے نیچے آ گئے باقی روپوش ہو گئے۔
میری سینئر قیادت اس صورت میں سامنے آئی کہ وہ میڈیا کے سامنے اعلان کرکے ان کا پارٹی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ جو لوگ اعلان نہیں کررہے وہ یا تو جیلوں میں ہیں یا پھر روپوش ہیں۔
میں اس وقت بالکل الگ تھلگ ہوں، مجھے مقدمات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، میرے خلاف 150 سے زیادہ کیسز درج ہیں۔ کل میں عدالت میں تھا، مجھ پر 19 مقدمات تھے۔ یہ ناقابل سماعت ہیں۔ میں نے کل 19 مقدمات میں ضمانت حاصل کی ، مجھ پر تازہ ترین جو مقدمہ بنایا گیا ہے وہ ایک وکیل کے قتل کا مقدمہ ہے۔ یہ وہ وکیل ہے جس نے سنگین غداری کیس میں میرے خلاف مقدمہ کررکھا تھا۔ وکیل کو کوئٹہ میں گولی مار دی جاتی ہے، اور اس کا قتل کا مقدمہ مجھ پر ڈال دیا ہے۔ چند لوگ رہ گئے جن کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
لیکن یہ صرف اتنا ہی نہیں ، وہ میڈیا جو پچھلے 20 سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے ، اس بھی مکمل طور پر کنٹرول کرلیا گیا ہے ، آج ٹیلی ویژن پر میرا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ 30 سے 40 نیوز چینلز ہیں سب کو ہدایت کردی گئی ، میرا مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کردیا گیا ہے۔
سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ ہماری عدلیہ میں کچھ خرابیاں تھیں۔ 16 سال قبل عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں شامل ہوا تھا ، جس کی پاداش میں مجھے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ہمارے چیف جسٹس کو اس وقت کے آمر جنرل (پرویز) مشرف نے ہٹا دیا تھا۔ اس لیے ہم سب ایک آزاد عدلیہ کے لیے کھڑے تھے۔ اور اصل میں، اس تحریک نے کام کیا. چیف جسٹس کو بحال کر دیا گیا۔ اور اس کے بعد سے، عدلیہ کافی حد تک خود مختار ہو گئی- دوسرے لفظوں میں وہ ہمیں ایگزیکٹو کی زیادتیوں سے بچا رہے ہیں۔
عدلیہ کو اب کنٹرول کیا جارہا ہے۔ سرکاری افسران عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارے ایک عہدے دار کو 5 مقدمات میں بری کردیا گیا مگر انہیں پھر سے گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں تھپڑ مارے گئے۔ اسے دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ صرف اسی صورت میں اس صورتحال سے نکل سکتا ہے جب وہ پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا اعلان کردے۔









