کنگلی حکومت کا اقتدار سے چمٹے رہنے کا فیصلہ، پی ٹی آئی کے 11 ایم این ایز کے استعفے منظور

حکومتی اتحاد کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ، اسپیکر نے علی محمد خان، شیریں مزار، فرخ حبیب، اعجاز شاہ، اکرم چیمہ، جمیل احمد خان اور دیگرکے استعفے منظور کرلیے،ترجمان قومی اسمبلی

سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی کنگلی  حکومت نے اقتدار سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب پنجاب کے بعد وفاقی حکومت بچانے اور پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی  کی فقیدالمثال کامیابی کے اثرات  کو زائل کرنے  کیلیے وفاقی حکومت نے اسپیکر قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے 11 ایم این ایز کے استعفے منظور کروالیے۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے ان  مخصوص ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کروائے ہیں جن کی نشستوں پر ضمنی الیکشن  میں جیت کے امکانات زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کے پی اور پنجاب میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد عمران خان نے سندھ میں پڑاؤ کی ٹھان لی

عمران خان اور پرویز الہٰی کے درمیان ملاقات ، پنجاب میں حکومت چلانے پر اتفاق

پنجاب حکومت سے ہاتھ دھونے کے بعد حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم جماعتیں پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کیلیے سر جوڑ کر بیٹھ گئیں۔پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوا جس میں لندن سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں ایک مرتبہ پھر عام انتخابات وقت پر کرانے اور موجودہ حکومت کی مدت پوری کرنے  کے عزم کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں اس امر پر بھی  اتفاق کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عوامی مہم چلائی جائے گی۔

 اجلاس کے بعد  میڈیا سے گفتگوکرتےہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کے اجلاس میں کچھ قراردادیں پاس ہوئی ہیں، فل کورٹ کے ذریعے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے گا اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے افراتفری اور سیاسی بحران پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پر اسرا خاموشی کی چادر اوڑھی ہوئی ہے، ان سے مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنایا جائے، اس کیس سے آنکھیں بند کرنا قومی سلامتی کے خلاف ہے، آئین میں اداروں کو واضح طور پر اختیارات تفویض کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے اندر مداخلت نہیں کرسکتا،جن محکموں کا معیشت سے براہ راست تعلق ہے ہم منگل کو ان سے ان کی کارکردگی کی بریفنگ لیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فل کورٹ کا مطالبہ اس لیے مسترد ہوا کیوں کہ اس قسم کا نا انصافی پر مبنی فیصلہ آنا تھا، اگر نا انصافی نہ کرنی ہوتی تو فل کورٹ بنانے میں کوئی آر نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ غلطی اور اسکی تصحیح دونوں عمران خان کے حق میں ہیں، اگر غلطی کی تصحیح کرنی تھی تو پانامہ کیس کی تصحیح کرتے، لاڈلے کو نوازنا تھا اس لیے فل کورٹ نہیں بنایا گیا۔

دریں اثنااسپیکر قومی اسمبلی   راجہ پرویز اشرف نے  شیریں مزاری ،فرخ حبیب اور علی محمد خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 11 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے۔

 ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے استعفوں کی منظوری کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کرکے الیکشن کمیشن کو بھجوادیا گیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے جن ارکان  قومی اسمبلی کے استعفے منظور کئے ہیں  ان میں  علی محمد خان، فضل محمد خان ، شوکت علی ، فخر زمان خان ، فرخ حبیب ، اعجاز احمد شاہ ، جمیل احمد خان ، محمد اکرم چیمہ ، عبدالشکور شاد ، ڈاکٹر مہر انساء شیریں مزاری اور شندانہ گلزار خان شامل ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفے آئین پاکستان کی آرٹیکل 64 کی شق (1) کے تحت تفویض اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے منظور کئے۔پی ٹی آئی کے مبران قومی اسمبلی نے رواں برس11 اپریل کو اپنی نشستوں سے استعفے دیے تھے۔

پاکستان  تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا استعفیٰ منظور کئے جانے کے حوالے سے کہنا تھا کہ  قاسم سوری پہلے ہی بطور اسپیکر  استعفیٰ منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے 11 ایم این ایز استعفے منظور کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ یہ خام خیالی ہے کہ آپ ان حلقوں میں ضمنی الیکشن کرائیں گے۔ ملک عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ حکمراں انتخابات نہیں روک سکتے۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے ان  مخصوص   ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کروائے ہیں جن کی نشستوں پر  ضمنی الیکشن  میں جیت کے امکانات زیادہ ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے  صحافی فیض اللہ خان کا کہنا ہے کہ کراچی سے انہی حلقوں کے استعفے منظور ہوئے جہاں پیپلز پارٹی اور متحدہ کا اچھا ووٹر ہے۔

متعلقہ تحاریر