پاکستانی سیاست میں بدزبانی اور بازاری زبان کااستعمال عام ہوگیا

وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے حامیوں کیلیے بیہودہ لفظ استعمال کیا، فواد چوہدری کا ٹاک شو میں پختونخوں سے متعلق بیہودہ مذاق، پیمرا کا نوٹس، میزبان کاشف عباسی نے معذرت کرلی

پاکستانی سیاست میں بدزبانی اور بازاری زبان کا استعمال عام ہوگیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نےپریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے حامیوں کو بازاری لقب سے نواز دیا۔

اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری   نے اے آر وائی نیوز پر  براہ راست ٹاک شو میں پختونوں سے متعلق بیہودہ مذاق  کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

25مئی کے مارچ میں دو غلطیاں ہوئیں ، ہم نے اپنے مخالفین کو جمہوری سمجھا، عمران خان

عمران خان کو ریلیف دے کر عدلیہ نے بہت بڑی غلطی کی، مریم نواز

 وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران  تحریک انصاف کے حامیوں پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس ڈس انفارمیشن سیل نہیں بلکہ ایک آرمی ہے،عمرانڈوز آرمی کا کام ہر وقت بدنام کرنا ہے، میں جب سے سیاست میں ہوں میری تنخواہ اسپتال کو جاتی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے مخالف سیاسی جماعت کے کارکنوں کے لیے اس قسم کی گھٹیا زبان استعمال کرنے پر وزیرخزانہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ ایک وزیر خزانہ کے لیے دوسری جماعت کے ووٹرز کے لیے یہ توہین آمیز زبان استعمال کرنا قابل نفرت ہے،یقینی طور پر سیاسی پختگی کا عمر سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ آپ اس قسم کے شخص سے اور کیا توقع کرسکتے ہیں۔

ایک صارف نے اسحٰق ڈار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ  ڈار صاحب ایسےتوہین آمیز لفظ کے استعمال پر آپ کو معافی مانگنی چاہیے، یہ طرز عمل آپ کے  قد سے مطابقت نہیں رکھتا ،برائے مہربانی اس سے پرہیز کریں۔

دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری  اے آر وائی نیوز پر کاشف عباسی کے پروگرام میں  سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے سابق وزیراعظم عمران خان پر باتھ روم میں بند کرنے کے الزام پر گفتگو کرتے ہوئے پٹھانوں سے متعلق بیہودہ مذاق  کر بیٹھے۔

کاشف عباسی نے فوادچوہدری سے واقعے کی حقیقت سے متعلق سوال کیا کہ کیا ایسا ہوا تھا یا نہیں ہوا تھا،اعظم خان کیا کہتے ہیں؟ اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ تو کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا لیکن انہیں)بشیر میمن) بھی تو کہنا چاہیے کہ وہ مجھےسمجھانے کیلیے باتھ روم میں لے گئے تھے،انہوں نے پٹھان کے ساتھ باتھ روم جاکر بڑا رسک لیا ہے۔

پیمرا نے پروگرام میں  فواد چوہدری کے نازیبا اور متعصبانہ جملے نشر کرنے پر اے آر وائی نیوز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب جمع کرانے کاحکم جاری کردیا۔

پیمرا نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ متعصبانہ  تبصرے پر نہ صرف  پروگرام اینکر کا رویہ انتہائی غیرپیشہ ورانہ ہے بلکہ  اینکر خود بھی مہمان کےجملوں پر ہنستے رہے جوکہ اینکر کے پیشہ ورانہ کردار اور چینل کی ایڈیٹوریل پالیسی پر کڑا سوالیہ نشان ہے۔مذکورہ ہتک آمیز مواد نشر کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ چینل کا ایڈیٹوریل بورڈ اور موثر تاخیری نظام بری طرح ناکام ہوچکے ہیں جوکہ پیمرا کے قوانین اور عدالتی احکام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب اےآر وائی نیوز کے پرورگرام آف دی ریکارڈ کے میزبان کاشف عباسی نے اپنے پروگرام میں فواد چوہدری کی نازیبا گفتگو نشر ہونے پر پشتونوں سے معافی مانگ لی۔انہوں نے اعتراف کیا کہ  اس جملے پر انہیں ردعمل دینا چاہیے تھااور شاید فواد چوہدری کو روکنا بھی چاہیے لیکن غلطی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس غلطی کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔

متعلقہ تحاریر