سینیٹر اعظم سواتی آرمی چیف او ر اداروں کیخلاف متنازع ٹوئٹس پر گرفتار
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اعظم سواتی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔عدالت کا ملزم کو 2 روز بعد طبی معائنے کی رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کے سائبر کرائم سیل نے تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کو آرمی چیف اور اداروں کیخلاف تنقیدی اور متنازع ٹوئٹس کرنے پر رات گئے گرفتار کرلیا۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اعظم سواتی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔عدالت نے ملزم کو 2 روز بعد طبی معائنے کی رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دےدیا۔
یہ بھی پڑھیے
لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی اور بانی رکن حامد زمان گرفتار
عمران خان کی احتجاج کی تنبیہہ: حکومت منتخب سینیٹر کے گھر گھس گئی
اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی نے بتایا کہ سینٹر اعظم سواتی کو انکی رہائش گاہ سے رات3بجے گرفتار کیا گیا ،ایف آئی اے اہلکاروں نے چھاپے کے دوران گھر پر توڑ پھوڑ بھی کی ۔عثمان سواتی نے الزام عائد کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے ملازمین پر تشدد کیا گیا ،ایف ائی اہلکار چھاپے کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ بھی ساتھ لے گئے ،انہوں نے کہا کہ میری چار سال کی بیٹی کو بھی گھر سے باہر نکال کر کھڑا کیا گیا۔
اعظم سواتی کوآج صبح ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں سینئر سول جج شبیر بھٹی کے روبرو پیش کردیاگیا۔ ایف آئی اے حکام نے موقف اپنایا کہ اعظم سواتی کو گزشتہ رات ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے گرفتار کیا ہے،ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
اعظم سواتی کی جانب سے بابر اعوان، سردار مصروف خان اور فیصر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔وکلا نے موقف اپنایا کہ اعظم سواتی کو صرف سیاسی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے،اعظم سواتی پر رات گئے بدترین تشدد کیا گیا۔عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے اعظم سواتی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔عدالت نے فوری طور پر اعظم سواتی کا پمز اسپتال میں میڈیکل کرانے کا حکم بھی دیدیا۔
عدالتی حکم کے بعد ایف آئی اے کا عملہ اعظم سواتی کو لیکر پمز اسپتال میں روانہ ہوگیا۔عدالت سے روانگی کے موقع پر اعظم سواتی نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔گرفتاری سے متعلق سوال پر اعظم سواتی نے کہا کہ میں نے آئین و قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی، ایک ٹوئٹ میں جنرل باجوہ کا نام لیاتھا، صرف یہ خلاف ورزی ہے۔
سینیٹر اعظم سواتی گرفتار۔#News360 #BreakingNews #Azamswati pic.twitter.com/7G5OH2jWVY
— News 360 (@officialnews360) October 13, 2022
اعظم سواتی نے الزام عائد کیا کہ مجھے ایف آئی اے نے گرفتارکیا اور ایجنسیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔قوم اور ملک کوبتارہا ہوں کہ پارلیمنٹ کے کپڑے نکالےگئے ہیں۔
یاد رہے کہ سینیٹر اعظم سواتی نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے بعد 2 ٹوئٹس کیے تھے جن میں آرمی چیف اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
Mr Bajwa congratulations to you and few with you . Your plan is really working and all criminals are getting free at cost of this country . With these thugs getting free You have legitimise corruption . How you predict now the future of this country ? pic.twitter.com/uZgHQjZ7lJ
— Senator Azam Khan Swati (@AzamKhanSwatiPk) October 12, 2022
How long imported govt and its criminals and their Masters 5-6 in establishments are going to play with the future of our Nation ? Have your heard Atizaz ? I wish Imran khan allow me I would come straight to Gate 4 in Rawalpindi to challenge those who have ruined this country pic.twitter.com/Q7EVJkj94g
— Senator Azam Khan Swati (@AzamKhanSwatiPk) October 12, 2022
دریں اثنا ایف آئی اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اعظم خان سواتی کو آرمی چیف اور اداروں کے خلاف تنقیدی و متنازعہ ٹویٹس کرنے پر گرفتار کیاگیا ،اعظم سواتی کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم سیل میں مقدمہ بھی درج ہے۔


تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور ان کے ساتھ ناروا سلوک پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور پھر انہیں ننگا کر کے مارنا- وہ ایک بزرگ ہیں۔ نانا اور دادا ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیں ان کی فیملی پر کیا گزر رہی- ہمیں پتہ ہے ہم آپ سے کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لئے آپ سے استدا ہے کہ مجھ سمیت PTI کہ کسی جوان کو پکڑ لیں لیکن بزرگ کو ننگا نہ کریں
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) October 13, 2022
شہباز گل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور پھر انہیں ننگا کر کے مارنا- وہ ایک بزرگ ہیں۔ نانا اور دادا ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیں ان کی فیملی پر کیا گزر رہی- ہمیں پتہ ہے ہم آپ سے کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لئے آپ سے استدا ہے کہ مجھ سمیت پی ٹی آئی کہ کسی جوان کو پکڑ لیں لیکن بزرگ کو ننگا نہ کریں۔









