میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ایم کیو ایم کے جھنڈے اور الطاف حسین کے حق میں نعرے لگانے کی اجازت کس نے دی؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران ایم کیو ایم لندن کے کارکنان کو پارٹی پرچم لانے کی اجازت کس نے دی؟ اور الطاف حسین کے حق میں نعرے لگانے کی اجازت کیوں دی گئی۔؟
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے موقع پر متحدہ قومی موومنٹ (لندن) کے کارکنان کی جانب سے اسٹیڈیم میں پارٹی پرچم لہرا دیئے گئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز منظرعام پر آئی ہیں جن میں ایم کیو ایم لندن کے کارکنان کو پارٹی کے جھنڈے لہراتے ہوئے اور پارٹی کے بانی الطاف حسین کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لندن میں بیٹھے مفرور مجرم نے ملک کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، عمران خان
اعظم سواتی کے لیے آواز اٹھانا مصطفیٰ نواز کھوکھر کو مہنگا پڑ گیا
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے کارکنوں کو میلبورن کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان T20 ورلڈ کپ 2022 کے فائنل میچ کے دوران پارٹی کے جھنڈے لہراتے اور خود ساختہ جلاوطن پارٹی کے بانی الطاف حسین کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
آج کا میچ الطاف بھائی جیت گئے 🏏✌️#T20WorldCupFinal pic.twitter.com/HuOSs0JCo6
— Hassan Butt (@IHassanButt) November 13, 2022
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ نگاروں نے سوالات اٹھائے ہیں کہ کھیل کے میدان میں سیاسی کارکنوں کو ایم کیو ایم لندن کے جھنڈے لانے اور ایم سی جی میں الطاف حسین کے حق میں نعرے لگانے کی اجازت کیوں دی گئی۔؟
عینی شاہدین نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ صرف ایم کیو ایم لندن کے کارکنان اپنے پارٹی پرچموں کے ساتھ موجود تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی بھی تعداد اسٹیڈیم کے اندر اور باہر موجود تھی تاہم کسی کو بھی اپنی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لے کر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے موقع پر میلبورن کے اسٹیڈیئم کے اندر ایم کیو ایم کے پرجوش کارکنوں نے 1992 کے ورلڈ کپ کی یاد تازہ کردی۔
الطاف بھائی کے وفاپرستوں کو سلام۔ #AltafAtMCG #T20WorldCupFinal pic.twitter.com/nvBpHJ8uIC— Mustafa Azizabadi (@azizabadi) November 14, 2022
عینی شاہدین کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد اسٹیڈیم کے باہر پارٹی پرچموں کے ساتھ موجود تھی ، لیکن صرف ایم کیو ایم ایل کے کارکنان کو ہی آزادانہ طور پر ایم سی جی کے اندر پارٹی پرچم لہرانے کی اجازت تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم ایل کے کارکنوں کو گراؤنڈ کے اندر اپنی سیاسی وابستگی کا مظاہرہ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کی سیاسی سرگرمیوں پر ایم سی جی گراؤنڈ انتظامیہ نے دھیان نہیں دیا۔
Congratulations Hassan Bhai verified from the Herat @IHassanButt#StopBiasWithAltaf pic.twitter.com/B1NSDJSQTp
— Kamran Siddiqui (@toxic5687) November 13, 2022
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین خود ساختہ جلاوطن پاکستانی سیاستدان میں سے ایک ہیں ، جو 1992 سے لندن میں مقیم ہیں۔
الطاف حسین کو قتل ، ٹارگٹ کلنگ ، غداری ، تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کے متعدد مقدمات میں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔
پاکستانی حکام نے 2015 میں الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقاریر کے بعد ان کی سیاسی جماعت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا تھا ، اور ان کے تمام دفاتر ختم کردیئے گئے تھے۔









