میری جان کو ابھی بھی خطرات لاحق ہیں، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے میرا مقصد ہرگز اداروں کو نقصان پہنچانا نہیں کیونکہ مضبوط فوج پاکستان کی ضرورت ہے۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اس ماہ کے شروع میں وزیر آباد میں قاتلانہ حملے کے بعد بھی ان پر مستقبل قریب میں دوبارہ حملہ ہوسکتا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 3 نومبر کو حقیقی آزادی مارچ کے دوران وزیرآباد میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے ، مارچ کا مقصد رولنگ پر جلد انتخابات کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ انہیں رواں سال اپریل میں عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے کے منصب سے ہٹایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے نظام انصاف سے مجھے اب کوئی امید نظر نہیں آرہی، عمران خان

چوروں نے 7 ماہ کے اندر ملکی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا، عمران خان

پولیس رپورٹ کے مطابق حملہ آور محمد نوید نے پستول سے فائرنگ سے فائرنگ کی تھی جس سے عمران خان شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ملزم محمد نوید کے مطابق اس نے یہ کام اکیلے کیا ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 24 اکتوبر کو ایک ریلی کے دوران اپنے اوپر حملے کی پیشگوئی کردی تھی۔ عمران خان نے ملزم محمد نوید کے بیان کے حوالے سے پولیس رپورٹ مسترد کردی تھی۔

گزشتہ رات فرانس 24 نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ "وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے راستے سے ہٹانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مجھے ختم کردیا جائے ، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی خطرہ موجود ہے۔”

فرانس 24 نیوز کا انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا مجھے یقین ہے کہ مجھ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور ایک سینئر انٹیلی جنس افسر ملوث ہیں۔ سازش ان تینوں نے تیار کی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا "جب تک یہ تینوں لوگ اپنے عہدوں پر براجمان رہیں گے تب تک مجھے انصاف ملنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔”

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "حملہ آور ریاستی سطح کی سازش کا ایک حصہ تھا ، جوکسی  فریب سے کم نہیں۔”

ان کا کہنا تھا حکومت میں بیٹھے لوگ اگلے انتخابات کے پیش نظر ان کی اور ان کی پارٹی کی عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ "وہ مجھے کیوں ختم کرنا چاہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میری پارٹی اب تک کی سب سے مقبول پارٹی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "موت کا خوف انہیں حقیقی آزادی کے اپنے مشن کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتا۔”

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ "انہیں صرف چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال پر اعتماد ہے کہ وہ آزادانہ تحقیقات کرائیں، کیونکہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کسی اور تحقیقات کو سبوتاژ کردیں گے۔”

سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ "انہیں خدشہ ہے کہ میری جان لینے کے لیے مجھ پر مزید حملے ہوسکتے ہیں ، لیکن میرا عزم مصمم ہے کہ حکومت مخالف مارچ میں دوبارہ شرکت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ "مزید احتیاطی تدابیر” اختیار کریں گے۔”

معزول وزیر اعظم نے مزید کہا کہ "ملک کو درپیش موجودہ مسائل کا واحد حل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پارٹی آنے والے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔”

سازشی بیانیے کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ "میں اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ میں اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹ رہا ہوں ، میں اس بات پر قائم ہوں کہ امریکی اور پاکستانی اشرافیہ نے ملی بھگت کے میری حکومت کو ہٹایا تھا۔”

عمران خان زور دے کر کہا کہ "واقعی ایسے شواہد موجود ہیں کہ امریکی انتظامیہ انہیں معزول کرنا چاہتی ہے، سفارتی کیبل ان کے دعوے کو ثابت کرتی ہے اور اب یہ معاملہ چیف جسٹس کے ہاتھ میں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "غیر ملکی سازش کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سائفر کو کابینہ، نیشنل سیکورٹی کونسل اور چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھا گیا تھا۔”

تاہم عمران کا کہنا تھا کہ "وہ ایک سپر پاور کی مخالفت کرکے پاکستانی عوام کے مفادات کے خلاف نہیں جانا چاہتے۔”

’پریس کانفرنس انتہائی غیر مناسب تھی‘

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ کی پریس کانفرنس ‘ناقابل غور’ تھی۔ میں اپنے اداروں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا کیونکہ پاکستان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس انتہائی نامناسب تھی۔” انہوں نے کہا کہ "آئی ایس آئی کے سربراہ کو پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے۔”

عمران خان نے کہا کہ "اگر انہوں نے پریس کانفرنس کا پوائنٹ بہ پوائنٹ جواب دیا تو فوج کا ادارہ تباہ ہو جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے کیونکہ پاکستان کو مضبوط دفاع کی ضرورت ہے۔

متعلقہ تحاریر