ملک میں ٹینکوکریٹ حکومت کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے، عمران خان
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملک میں انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ، تاہم انتخابات میں کوئی پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ انتخابات کے لیے حکومت سے زیادہ پیچھے بیٹھے لوگوں کی رضا مندی ضروری ہے ۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مفادات بیرون ملک ہیں۔
ان خیالات کا اظہار چئیرمین تحریک انصاف عمران خان سے سئینر صحافیوں اور پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران سے ملاقات کے دوران کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ، اگر آئندہ عام انتخابات میں کوئی پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے ، مشرقی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی پارلیمانی کردار ادا کرنے کو تیار ہے لیکن حکومت سنجیدہ نہیں، شاہ محمود قریشی
زرداری اور ان کے بیٹے نے پیپلز پارٹی کو سکیڑ کر بی بی کے دشمنوں کا مشن پورا کردیا، فواد چوہدری
پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ابھی مجھے الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے ، پی ڈی ایم صرف ڈرائنگ روم کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔
ایک مرتبہ پھر جنرل باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) باجوہ نے اس ملک پر بڑا ظلم کیا اور ہم ڈیفالٹ کے قریب کھڑے ہیں ، جنرل باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھی ورکنگ ریلیشن شپ تھی ، تاہم جنرل باجوہ کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنی تھی
تحریک انصاف کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ نیب قوانین میں ترمیم کر کے 11 سو ارب روپے کی کرپشن کے کیسز ختم کرائے گئے ہماری حکومت میں 5 فیصد ڈیفالٹ کا خطرہ تھا جو اب 90 فیصد ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مفادات بیرون ملک ہیں جب دونوں خاندانوں کے مفادات پاکستان سے نہیں تو ان سے میثاق معیشت کیسے کریں ، ملک پر قبضہ گروپ کا راج ہے اور جنگل کا قانون ہے ، قانون کی حکمرانی قائم کئے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔









