ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل دوسرے روز اضافہ
لگژری سامان کی درآمد پر پابندی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روپیہ مضبوط کرنے کی کوششیں

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرنسی مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
فاریکس ایسوسی ایشن پاکستان کے مطابق پیرکوانٹر بینک میں امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں ایک روپے 20 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ ہفتے کاروباری ہفتے کے اختتا م پرامریکی کی قدر میں 2 روپے 35 پیسے کی کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد ایک امریکی ڈالر 199روپے 60 پیسے پہنچا جبکہ آج مزید کمی کے بعد ڈالر 198 روپے 40 پیسے ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے
سینیٹری پیڈز، ڈائپرز اور انکے خام مال کی درآمد پر پابندی نہیں، وزیرخزانہ
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اپریل میں اتحادی حکومت بننے کے بعد نون لیگی صدر شہبازشریف نے وزیراعظم کی کرسی سنبھا لی توایک امریکی ڈالر 182 روپے 30 پیسے پرتھا جو کہ 26 مئی تک 202 تک جا پہنچا تھا۔ حکومت نے لگژری سامان کی درآمدات پرپابندی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مضبوط کرنے کی کوشش کی جس کے بعد مسلسل دوسرے روز بھی روپیہ تگڑا ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدرمیں اضافہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی مثبت خبروں کے باعث ہوا۔ عالمی مالیاتی اداروں سے معاہدہ ہونے کے بعد روپیہ مضبوط ہوگا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 2 روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ جون تک عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پا جائے گا جس کے بعد ایکسچینج ریٹ میں واضح فرق دیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے 5 ارب ڈالر کی درخواست کی گئی ہے تاہم پرامید ہیں کہ 3 سے 4 ارب ڈالر وہاں سے مل جائیں گے۔









