کے پی اسمبلی میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کا بل پیش، خواتین پر تشدد کیخلاف بل منظور
بل کے تحت خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود سے متعلق فیصلوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا

خیبر پختونوا کی صوبائی حکومت نے کے پی خواجہ سرا ویلفئیر انڈونمنٹ فنڈ بِل 2022 اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بل میں مالی مشکلات سے دوچار خواجہ سراؤں کے لیے انڈونمنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بل میں فنڈز کے ذریعے خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود،مالی معاونت اور روزگار فراہم کرنے کی کوششوں کا اعادہ کیا گیا۔
خواجہ سراؤں سے متعلق بل میں کیا گیا کہ حکومت کا مقصد خواجہ سراؤں کو مالی لحاظ سے مستحکم بنانا اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ حکومت خواجہ سراؤں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضے بھی فراہم کرے گے۔ اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کے مطابق 6 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود سے متعلق فیصلوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا جس میں بالخصوص خواجہ سراؤں کی معاشی ضروریات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نمرہ کاظمی بالغ ہیں، سندھ ہائی کورٹ نے شادی کو قانونی قرار دے دیا

خیبرپختونخوا اسمبلی میں گھریلو تشدد سے متعلق کئی سالوں سے زیر التواء بل بھی منظورکرلیا گیا ہے جس کے تحت خواتین پر تشدد کرنیوالے کیخلاف پانچ سال تک قید کی سزا ہوگی۔ بل کے مسودے میں کہا گیا کہ معاشی، نفسیاتی و جنسی دباؤخواتین پر تشدد کے زمرے میں آئیں گے جبکہ بل کے تحت ضلعی تحفظاتی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں یہاں کا ڈپٹی کمشنر، محکمہ صحت اور ادارہ سماجی بہبود کے افسران کے علاوہ ضلعی پولیس کا نمائندہ اور سول سوسائٹی کے چار افراد شامل ہوں گے، کمیٹی متاثرہ خاتون کو طبی امداد،پناہ گاہ، مقول معاونت فراہم کرے گی۔ بل کے مطابق گھریلو تشدد واقعات کی رپورٹ کیلئے ہیلپ لائن قائم کیا جائے گا، تشدد پر15دن کے اندرعدالت میں درخواست جمع کرائی جائے گی اورعدالت کیس کا فیصلہ 2ماہ میں سنانے کی پابند ہوگی۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا وہ پہلا صوبہ ہے جہاں خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جیسے اہم اور بنیادی دستاویز جاری کیے گئے تھے۔ وفاقی حکومت نے مئی 2018 میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے قانون منظورکیا تھا جس کے تحت انہیں شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ بنوانے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ گھر یا عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کی ممانعت، تعلیم، خصوصی طبی سہولیات، زبردستی بھیک منگوانے پر پابندی اور جیلوں میں الگ بیرک میں رکھنے کا کہا گیا تھا۔
اس سے قبل 2019 میں خیبرپختونخوااسمبلی نے خواتین کو وراثتی حق کے تحفظ اور نادار افراد کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے دو الگ الگ بل بھی منظورکیے تھے ۔ خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 اور نادار افراد کے لیے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 کے بل منظور کیے گئے۔
ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ کے تحت خواتین کو جائیداد کی ملکیت کا حق ہوگا اور یہ قانون خواتین کو اس حوالے سے ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے، فراڈ یا جبر اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے خلاف ورزی سے روکنے کو یقینی بناتا ہے۔ ویمن پراپرٹی رائٹس بل کے تحت صوبائی خاتون محتسب کے اختیارات میں اضافہ کردیا گیا ہے جو خواتین کو وراثتی حق دلانے میں ڈپٹی کمشنر سے لے کر صوبے کے دیگر اعلیٰ افسران کو احکامات دینے کی مجازہوگی۔









