عمران خان لانگ مارچ میں بدنظمی کے ذمےدار قرار،  12رہنماؤں کی عبوری ضمانت

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ویڈیو پیغام میں کارکنوں کو ریڈ زون پہنچنے کی ہدایت دی

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کی رہنما سابق صوبائی وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد، حماد اظہر سمیت 12 رہنماؤں  کی عبوری ضمانت منظورکرلی ہے۔ آئی جی اسلام آبادکی رپورٹ میں عمران خان کو ڈی چوک  پر بدنظمی  کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

اس سے قبل انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما سابق صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد ،سابق وفاقی وزیر حماد اظہر سمیت 12 رہنماؤں کے  ناقابل گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے ۔

یہ بھی پڑھئے

عمران خان  نے حکومت کو آئینہ دیکھا دیا، اپنی معاشی کامیابیوں کا اعتراف نون لیگ سے کروا دیا

انسداد دہشگردی کی عدالت میں  پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف  لانگ مارچ اور احتجاج کے دوران  سرکاری و نجی املاک  کو نقصان پہنچانے کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت آج ہوئی ۔

 لاہورکی انسداد دہشگردی کی  خصوصی عدالت ( اے ٹی سی ) نے پاکستان تحریک انصاف کے حماد اظہ، شفقت محمود،  میاں محمود الرشید، اعجازچوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عندلیب عباس سمیت 12 رہنماؤں کے نا قابل وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے ۔

دورانِ سماعت پولیس نے سابق وفاقی اور صوبائی وزرا سمیت پی ٹی آئی کے 12 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور  کرلیا۔

وارنٹ  گرفتاری جاری ہونے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے عبوری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا  جس پر عدالت نے 12 رہنماؤں  کی عبوری ضمانت منطورکرلی تھی ۔

دوسری جانب  آئی جی اسلام آباد نے لانگ مارچ کے حوالے سے  سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروادی ہے ۔ رپورٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے  ویڈیو پیغام میں کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے  کی ہدایت دی ۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  فواد چوہدری، زرتاج گل، عمران اسماعیل اور دیگر رہنما کارکنا ن کو اشتعال دلاتے رہے۔ آئی جی اسلام آبادکی رپورٹ میں عمران خان کو ڈی چوک  پر بدنظمی  کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ  میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا کہ  عدالتی حکم پر رکاوٹیں ہٹائیں تاکہ پی ٹی آئی کے ایچ9   گراؤنڈ میں جلسہ کریں تاہم عدالت کے احکامات کے باوجود عمران خان وہاں نہیں گئے اور کارکنا ن ریڈ زون پہنچنے کی ہدایت کرتے رہے۔ پولیس رپورٹ میں    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے پیغامات کی فوٹیج بھی جمع کروائیں ہیں۔

کے احکامات کے باوجود 700 سے 800 کے قریب مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوئے۔  پولیس اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو روکنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن مظاہرین نے کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں ہٹائیں۔

 آئی جی اسلام آباد کی جمع کروائی گئی رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ  تحریک انصاف کے کارکنان  کے پاس اسلحہ  موجود تھا جبکہ انہوں نے ڈنڈے بھی اٹھا رکھے تھے  پولیس نے ریڈ زون میں مظاہرین  کے داخلے   کے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا  جبکہ اس  دوران 21 شہری بھی زخمی ہوئے ۔

متعلقہ تحاریر