پاکستان کی گیس در آمد کی ایک اور کوشش ناکام، توانائی بحران بڑھنے کا خدشہ

پاکستان کی ایک ارب  ڈالر مالیت کے گیس ٹینڈر پر تاحال کوئی پیشکش موصول نہیں ہوئی ہے

حکومت پاکستان کی ملک کے لیے گیس درآمد کرنے کی  ایک اور کوشش ناکام ہوگئی ۔ پاکستان کی  ایک ارب  ڈالر مالیت کے   گیس ٹینڈر پر  تاحال کوئی پیشکش موصول نہیں ہوئی ہے جس کے باعث ملک میں توانائی کے بحران میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔

عالمی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایک ارب ڈالر کی گیس درآمد کے ٹینڈر پر تاحال کوئی پیشکش نہیں موصول ہوئی جس کے بعد خدثات ہیں کہ ملک میں توانائی کا بحران مزید طویل ہو جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیے

اپٹما کا بر آمدات میں اضافے کیلئے سستی بجلی و گیس کی فراہمی کا مطالبہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملکیت والی پاکستان ایل این جی کو 1 بلین ڈالر کے مائع قدرتی گیس کی خریداری کے ٹینڈر میں ایک بھی پیشکش موصول نہیں ہوئی جوکہ  عالمی سطح پر ایندھن کی قلت اور اقتصادی بحران کی گہرائیوں میں کسی ملک کو فروخت کرنے میں سپلائرز کی ہچکچاہٹ واضح کرتا ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ   تقریباً ایک ماہ میں چوتھی بار ہے کہ پاکستان کو گیس ٹینڈر پر  کوئی پیشکش موصول نہیں ہوئی  جس کے وجہ سے پاکستان ایل این جی کی خریداری میں مکمل طور پر ناما رہا ہے  جبکہ ملک میں پہلے ہی  توانائی کا بحران موجود ہے ۔

عالمی جریدے   کے مطابق نسبتاً غریب ملک توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ قیمتوں میں اضافے سے اسے خاص طور پر سخت نقصان پہنچا ہے۔ افراط زر کی شرح 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مالیاتی بچاؤ پیکج پر بات چیت کر رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر