پاکستان کا ایشیا کپ کا انعقاد یقینی بنانے کیلیے مزید لچک کا مظاہرہ
چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے ایشیا کپ کے پہلے 4 راؤنڈ کے صرف 4 میچز پاکستان میں کرانے کامطالبہ کردیا،رکن ممالک نے مشاورت کا وقت مانگ لیا

پاکستان میں طے شدہ ایشیا کپ 2023 کا انعقاد یقینی بنانے کیلیے پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) نے ہائبرڈ ماڈل پر مزید لچک کا مظاہرہ کردیا ۔
پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران سے ملاقات میں نیا ہائبرڈ ماڈل پیش کیا جس کے تحت چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے ایشیاکپ کے پہلے راؤنڈ کے صرف 4میچز پاکستان میں کرانے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
ایشیا کپ کی پاکستان سے منتقلی کسی صورت قبول نہیں ہوگی ، پی سی بی ڈٹ گیا
عمران خان کی گرفتاری: وکرانت گپتا کا پی سی بی کو ایشیا کپ منتقل کرانیکا مشورہ
نئی تجویز کے مطابق پی سی بی نے راؤنڈ ون کے 4 میچز پاکستان میں کروانے کی تجویز دی ہے اور پی سی بی کا کہنا ہے کہ ایشیاکپ کے راؤنڈ 2 کے میچز بشمول فائنل کو عرب امارات میں کروایاجائے جب کہ پاکستان ایشیاکپ کا فائنل عرب امارات کروانے پر رضامند ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایشیاکپ کی دیگر ٹیموں نے سفر کے اضافی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائبرڈ ماڈل میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا ، ایشیاکپ کی دیگر ٹیموں کی جانب سے عرب امارات میں ستمبر کے گرم موسم پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس پر پی سی بی نے ستمبر میں ایشیاکپ 2018 اور آئی پی ایل کے یو اےای میں ہونے کا حوالہ دیا ہے، پی سی بی نے ہائبرڈ ماڈل کے کمرشل اور لاجسٹک انتظامات کی بھی یقین دہانی کروا دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی نئی تجویز پر ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران نے نجم سیٹھی سے مشاورت پر وقت مانگ لیا ہے تاہم بنگلا دیش اور سری لنکا نے ایشیاکپ کے اجلاسوں کے دوران نیوٹرل وینیو پر ایشیاکپ کی منتقلی کی کوئی بات نہیں کی، سری لنکا اور بنگلا دیش کی پاکستان میں ایشیاکپ کھیلنے کی یقین دہانی کا ثبوت پی سی بی کے پاس موجود ہے۔سری لنکا اور بنگلا دیش نے پی سی بی کو ای میل کے ذریعے پاکستان میں ایشیاکپ کھیلنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔









