شاہد آفریدی اور نسیم شاہ پی ایس ایل 6 سے باہر

کرکٹر شاہد خان آفریدی کمر کی انجری جبکہ فاسٹ باؤلر نسیم شاہ بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی پر ابوظہبی میں کھیلے جانے والے لیگ کے بقیہ میچز میں اپنی اپنی ٹیموں کی نمائندگی نہیں کرپائیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی کمر کی انجری کے باعث اور فاسٹ باؤلر نسیم شاہ بایو سکیورڈ ببل کو نظرانداز کرنے پر پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے بقیہ میچز سے باہر ہوگئے ہیں۔

سابق کپتان شاہد آفریدی پی ایس ایل 6 کے لیے کراچی میں ٹریننگ کررہے تھے جب انہیں کمر کے نچلے حصے میں درد محسوس ہوا۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے شاہد آفریدی کو کچھ ہفتوں کے لیے آرام کا مشورہ دیا ہے جس کے بعد وہ ابوظہبی میں کھیلے جانے والے لیگ کے بقیہ میچز میں ملتان سلطانز کی نمائندگی نہیں کرپائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

منی ہائسٹ کے آخری سیزن کا ٹریلر جاری

دوسری جانب ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فاسٹ بالر نسیم شاہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ابوظہبی میں کھیلے جانے والے لیگ کے بقیہ میچز سے باہر ہوگئے ہیں۔

پاکستانی صحافی شاہد ہاشمی نے اس حوالے سے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ” نسیم شاہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے ہیں، چھوٹی سی عمر میں انہوں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے، اگر انہیں تربیت اور تعلیم نہیں دی جائے گی تو وہ بھٹک جائیں گے۔”

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم بالر وسیم اکرم نے صحافی شاہد ہاشمی کو مخاطب کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ” شاہد ہاشمی یہ ایک افسوسناک لمحہ ہے اور بڑا سوال یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی کون اور کیسے تربیت کرے گا۔؟”

 

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا ہے کہ  نسیم شاہ نے ناقابل قبول پولیمریز چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ کی رپورٹ جمع کروائی تھی، فاسٹ بولر نسیم شاہ کو آئسولیشن سے ریلیز کر دیا گیا ہے۔ نسیم شاہ 26 مئی کو ابوظبی روانہ نہیں ہو سکیں گے۔

پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے ابتدائی 14 میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے، جہاں ہونے والے سنسنی خیز مقابلوں نے شائقین کرکٹ کو خوب محظوظ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 14 میں سے ابتدائی 13 میچز میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔

لیگ کے پوائنٹس ٹیبل پر نظرڈالی جائے تو فی الحال ٹورنامنٹ میں شریک 6 میں سے 4 ٹیمیں ایسی ہیں جو 6،6 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر ابتدائی 4 پوزیشنز پر موجود ہیں۔ لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے بقیہ میچز شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم ابوظہبی میں کھیلے جائیں گے۔

پوائنٹس ٹیبل

دفاعی چیمپئن کراچی کنگز پانچ میچز (3 جیتے، 2 ہارے) میں 6 پوائنٹس کے ساتھ فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔  دلچسپ طور کراچی کنگز کے علاوہ تین ٹیموں، پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے پوائنٹس کی تعداد بھی 6 ہی ہے، تاہم بہتر نیٹ رن ریٹ (0.697)کی بنیاد پر کراچی کنگزکو پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

ایڈیشن 2017 کی چیمپئن پشاور زلمی کو بھی لیگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران تین میچز میں کامیابی اور دو میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چھ پوائنٹس حاصل کرنے والی پشاور زلمی کی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ 0.273 ہے۔

2016 اور 2018 کی فاتح اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم 0.202 کے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن پر موجود ہے۔

اسی طرح تین میچز میں فتح سمیٹنے اور ایک میں شکست کا سامنا کرنے والی  لاہور قلندرز کا پوائنٹس ٹیبل پر نمبر چوتھا ہے۔

ملتان سلطانز کی ٹیم ایونٹ کے پانچ میچز میں صرف ایک جیت کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر موجود ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا پوائنٹس ٹیبل پر نمبر آخری ہے۔

نیٹ رن ریٹ        پوائنٹس   شکست   فتوحات   میچز      ٹیم

0.697   6          2          3          5          کراچی کنگز

0.273   6          2          3          5          پشاور زلمی

0.202   6          1          3          4          اسلام آباد یونائیٹڈ

0.085   6          1          3          4          لاہور قلندرز

-0.244  2          4          1          5          ملتان سلطانز

-0.936  2          4          1          5          کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

سب سے زیادہ رنز

ٹورنامنٹ کے ابتدائی 14 میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے دونوں اوپنرز سب سے نمایاں ہیں۔

اس فہرست میں وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کا نمبر پہلا ہے، جو اب تک پانچ میچز میں 59.4 کی اوسط اور 140.09 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 297 رنز بناچکے ہیں، اس دوران انہوں نے تین نصف سنچریاں بھی اسکور کر رکھی ہیں۔

کراچی کنگز کے اوپنر بابراعظم  نے بھی لیگ کے پانچ میچز میں تین نصف سنچریاں بنا رکھی ہیں۔ انہوں نے 86 کی اوسط سے  258 رنز بنائے ہیں جبکہ اس دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ 138.7 رہا ہے۔

شاہد آفریدی نسیم شاہ
PSL Twitter

بابراعظم کے ساتھی اوپنر شرجیل خان وہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نے کراچی میں کھیلے گئے لیگ کے ابتدائی 14 میچز میں  سنچری بنائی ہے۔ وہ اب تک لیگ کے پانچ میچز میں 200 رنز بنا چکے ہیں۔ اس دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ 170.94ر رہا ہے۔ ٹورنامنٹ میں اب تک 40 کی اوسط سے رنز بنانے والے شرجیل خان نے ایک سنچری کے علاوہ ایک نصف سنچری بھی بنا رکھی ہے۔

سب سے زیادہ وکٹیں

پشاور زلمی کے فاسٹ باؤلر ثاقب محمود ایونٹ کے پانچ میچز میں 12.08 کی اوسط اور 7.98 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ کُل 12 وکٹیں حاصل کرکے اب تک لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے سب سے کامیاب باؤلر ہیں۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں صرف 12 رنز کے عوض 3 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

شاہد آفریدی نسیم شاہ
PSL Twitter

اس فہرست میں دوسرا نمبر شاہین شاہ آفریدی کا ہے۔ لاہور قلندرز کے فاسٹ باؤلر اب تک 4 میچز میں 12.55 کی اوسط سے 9 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ اس دوران 14 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کرنا ایونٹ کے کسی بھی میچ میں ان کی بہترین باؤلنگ رہی۔

ملتان سلطانز کے نوجوان فاسٹ باؤلر شاہنواز دھانی بھی اب تک ایونٹ میں 9 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں تاہم اس دوران انہوں نے 4 میچز میں 17 رنز سے زیادہ کی اوسط دی۔ قدرے مہنگے ثابت ہونے والے فاسٹ باؤلر کی ٹورنامنٹ کے کسی میچ میں سب سے بہترین باؤلنگ 44 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کرنا رہاہے۔

ٹورنامنٹ میں اب تک صرف ایک مرتبہ ایسا موقع آیا کہ جہاں کسی باؤلر نے ایک اننگز میں 4 وکٹیں اپنے نام کیں۔ پشاور زلمی کے کپتان اور فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کا یہ باؤلنگ اسپیل اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف تھا، جب انہوں نے 17 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

شاہد آفریدی نسیم شاہ

فیلڈنگ اور وکٹ کیپنگ

اب تک  چار میچز میں پانچ کیچز پکڑنے والے پشاور زلمی کے ٹم کوہلر کیڈمور ٹورنامنٹ کی کراچی لیگ کے فیلڈنگ چارٹ میں سرفہرست رہے۔ ٹم کوہلر کیڈمور کی ٹیم کے ساتھی شعیب ملک اب تک ٹورنامنٹ میں چار کیچز پکڑ چکے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فاف ڈو پلیسی اور بین کٹنگ کے علاوہ کراچی کنگز کے بابر اعظم نے بھی کراچی لیگ میں 3،3 کیچز پکڑ رکھے ہیں۔

اس دوران کراچی کنگز کے وکٹ کیپر جو کلارک نے 5 جبکہ لاہور قلندرز کے بین ڈنک اور ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے 4،4 کیچز پکڑ رکھے ہیں۔

باؤنڈری اور وکٹوں کی گنتی

کراچی لیگ میں مجموعی طور پر 446 چوکے اور 176 چھکے لگائے گئے، اس دوران 159 وکٹیں بھی گریں۔

سب سے بڑا اسکور

پشاور زلمی کا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ایک میچ میں 199 رنز کے تعاقب میں 19.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز کا مجموعہ کراچی لیگ میں شریک کسی بھی ٹیم کا ایک اننگز میں سب سے بڑا مجموعہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز بنائے تھے۔

اُدھر کراچی کنگز کا ملتان سلطانز کے خلاف ایک میچ میں 196 رنز کا ہدف کامیابی سے عبور کرنا بھی سنسنی خیز لمحہ تھا جسے دیکھنے کے لیے شائقین کرکٹ کی ایک بڑی تعداد اپنی ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھی دیکھ رہی تھی۔ ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 6 وکٹوں کے نقصان پر 195 رنز بنائے۔ جواب میں کراچی کنگز نے 18.5 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز بناکر فتح اپنے نام کی۔

سب سے کم اسکور

پشاور زلمی کے خلاف ایک میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا 17.1 اوورز میں 118 رنز تک محدود رہنا اب تک ٹورنامنٹ کا سب سے کم اسکور تھا۔ پاکستان سپر لیگ کے ایک اور میچ میں کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 121 رنز پر محدود کردیا تھا۔

متعلقہ تحاریر