ماحور کی اولمپکس میں شرکت سے خواتین کھلاڑیوں کے حوصلے بلند
نمائندہ نیوز 360 نے سابق نیشنل اور انٹرنیشنل بیڈمنٹن کوچ رضی الدین احمد سے خصوصی گفتگو کی۔

رواں سال ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی بیڈمنٹن اسٹار ماحور شہزاد پہلی خاتون ہوں گی جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوگا۔ اس حوالے سے نمائندہ نیوز 360 اختر علی خان نے سابق نیشنل اور انٹرنیشنل بیڈمنٹن کوچ رضی الدین احمد سے خصوصی گفتگو کی ہے۔
ٹوکیو اولمپکس تاریخ کے پہلے اولمپکس ہوں گے جن میں خواتین اور مردوں دونوں کی شمولیت برابر ہوگی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے خواتین کھلاڑیوں کا کوٹہ 49 فیصد رکھا ہے۔ انتظامیہ نے ایونٹ میں حصہ لینے والے تمام 206 ممالک کو پابند کیا ہے کہ ان کے دستے میں کم سے کم ایک مرد اور ایک خاتون کھلاڑی شامل ہوں۔ افتتاحی تقریب میں بھی قومی جھنڈے کو ایک مرد اور ایک خاتون کھلاڑی اٹھائیں گے۔ نیوز 360 سے گفتگو میں رضی الدین احمد نے ماحور شہزاد اور پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن (پی بی ایف) کو خصوصی طور پر مبارکباد دی۔
رضی الدین احمد نے بتایا کہ اولمپکس میں بیڈمنٹن کے کھیل میں حصہ لینے لے لیے سنگل میں پہلے 16 اور ڈبلز میں پہلے 8 کھلاڑیوں کے علاوہ باقی سیٹیں کوٹہ سسٹم کے تحت لی جاتی ہیں۔ ایک ملک سنگل میں ٹاپ 16 رینکنگ کے حامل 2 کھلاڑیوں کے علاوہ ایک کوٹہ سیٹ اور ڈبلز کے لیے ٹاپ 8 جوڑوں میں سے 2 جوڑے اور ایک کوٹہ سیٹ استعمال کرسکتا ہے۔ کوئی بھی ملک اولمپکس کے 5 مقابلوں کے لیے مردوں اور خواتین کھلاڑیوں کے آٹھ آٹھ نام سے زیادہ نہیں بھیج سکتا۔ ان مقابلوں میں مردوں اور خواتین کے سنگلز، ڈبلز اور سلیکٹڈ ڈبل مقابلے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی بیڈمنٹن اور ٹینس اسٹارز کی ٹورنامنٹس میں کامیابیاں
ڈائریکٹ انٹری کے علاوہ کوٹہ بیس انٹری میں پانچوں براعظم کا کوٹہ، میزبان ملک کا کوٹہ اور وائلڈ کارڈ انٹری شامل ہیں۔ بیڈمنٹن کوچ رضی الدین احمد کا کہنا ہے کہ جاپان اس اولمپکس کے لیے بھرپور فارم میں ہے۔ جاپانی کھلاڑیوں نے چین کے کھلاڑیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بیڈمنٹن کی خواتین کھلاڑیوں میں جاپان کی نوزومی کا پلڑا بھاری ہے، وہ 2016 کے ریو اولمپکس کی برونز میڈیلسٹ ہیں جبکہ 2017 میں گلاسکو میں ورلڈ چیمپیئن شپ بھی جیت چکی ہیں۔ اکامی یاماگوجی 2010 میں ورلڈ چیمپیئن شپ کی برونز میڈیلسٹ رہ چکی ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی موجودہ ورلڈ رینکنگ 3 اور 5 نمبر پر ہے اور دونوں جاپان کے اسکواڈ میں شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماحور شہزاد 5 مرتبہ قومی بیڈمنٹن چیمپیئن رہ چکی ہیں۔

پاکستان میں بیڈمنٹن کے مستقبل کے بارے میں رضی الدین احمد نے کہا کہ ہمیں جاپان سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ ماضی میں جاپان کا چین، ڈنمارک، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے کھلاڑیوں کے سامنے کوئی مقابلہ نہیں تھا لیکن آج وہ اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ یہ سب کچھ بغیر پلاننگ کے ممکن نہیں ہے جس کی ہمارے ملک میں کمی ہے۔
ماحور شہزاد کی محنت اور لگن نے انہیں یہ عظیم اعزاز عطا کیا ہے۔ رضی الدین احمد کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ جلد ہی اپنی انٹرنیشنل رینکنگ بہتر بنالیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحور شہزاد کی اولمپکس میں شرکت سے دیگر پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔









