عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل اختتام کی جانب گامزن
چیمپئن شپ کا فائنل 18 جون 2021 کو انگلینڈ کے شہر ساﺅتھمپٹن میں شروع ہوا تھا۔
نیوزی لینڈ اور انڈین کرکٹ ٹیم کے درمیان کھیلا جارہا عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل میچ بغیر کسی نتیجے کے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ آج میچ کا چھٹا اور آخری روز ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے زیر اہتمام عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل نیوزی لینڈ اور انڈین کرکٹ ٹیم کے درمیان انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں کھیلا جارہا ہے۔ چیمپئن شپ کا فائنل 18 جون 2021 سے ساﺅتھمپٹن میں ہی شروع ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
یونس خان نے کرکٹ سے راہیں جدا کرلیں
ساؤتھمپٹن میں کھیلے جارہے عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کے پانچویں روز تک دونوں ٹیموں نے ایک ایک اننگز مکمل کرلی ہے۔ نیوزی لینڈ نے انڈین کرکٹ ٹیم کے 217 رنز کے جواب میں اپنی پہلی اننگز میں 249 رنز بنائے اور اس طرح اسے انڈیا کے خلاف 33 رنز کی برتری حاصل ہوگئی۔ جواب میں انڈین کرکٹ ٹیم نے اپنی دوسری اننگز میں کھیل کے پانچویں روز 2 وکٹوں کے عوض 64 رنز بنا کر کیویز پر 32 رنز کی سبقت حاصل کرلی ہے۔
It’s all to play for on the last day of the #WTC21 Final.@irbishi and @Sdoull preview what’s in store in Southampton.#INDvNZ pic.twitter.com/SaCE07eSJA
— ICC (@ICC) June 23, 2021
میچ کے دلچسپ واقعات
عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میچ کے دوران دو شائقین کرکٹ کو اس وقت گراؤنڈ سے نکال دیا گیا تھا جب انہوں نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی راس ٹیلر کے خلاف غیراخلاقی زبان استعمال کی تھی۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی ٹیسٹ میچ چھٹے دن تک کھیلا گیا ہو اور بغیر کسے نتیجے کے ختم ہو رہا ہو۔
تبدیل ہوتے ہوئے موسم نے کئی مرتبہ میچ کے رنگ میں بھنگ ڈالا اور بارش کی وجہ سے میچ کو روکنا پڑ گیا۔
آئی سی سی کے قوائد و ضوابط
آئی سی سی حکام نے ٹیسٹ چیمپئین شپ کا اعلان 2019 میں کیا تھا جس کے مطابق 2 سال کے عرصے میں ہر ٹیم کو ایک دوسرے کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنی تھی۔ تاہم افغانستان اور زمبابوے کو اس چیمپئین شپ سے باہر رکھا گیا تھا۔
2 سال کے عرصے میں کھیلے گئے میچوں کی بنیاد پر پوائنٹس کے حساب سے بھارت پہلی اور نیوزی لینڈ دوسری پوزیشن پر رہا اور ضوابط کے لحاظ سے پہلی اور دوسری ٹیموں کو فائنل کھیلنے کا حق حاصل ہے۔
بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں عالمی وبا کرونا کی وجہ سے اتنے ٹیسٹ نہیں کھیلے جاسکے جتنے کھیلنے چاہیے تھے۔ سب سے تلخ پہلو یہ تھا کہ پاکستان اور انڈین کرکٹ ٹیموں کے درمیان کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا۔
آئی سی سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سارے عرصے کے دوران انڈیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا نے 6 ٹیسٹ سیریز، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ساؤتھ افریقہ نے 5 ٹیسٹ سیریز جبکہ آسٹریلیا نے 4 ٹیسٹ سیریز کھیلی تھیں۔ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ بھارت نے 12 جبکہ انگلینڈ نے 11 کھیلے۔
واضح رہے کہ بڑے مقابلے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری کین ولیمسن کے کاندھوں پر ہے جبکہ انڈین ٹیم کی سربراہی ویرات کوہلی کررہے ہیں۔ آئی سی سی کے زیر اہتمام ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھارت نے 17 میں سے 12 میچ جیت کر 520 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ نیوزی لینڈ 11 میں سے 7 میچ جیت کر 420 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا تھا۔









