اسپورٹس رپورٹر شعیب جٹ کو خواتین ایتھلیٹس پر تنقید مہنگی پڑگئی

اے آر وائی سے تعلق رکھنے والے اسپورٹس رپورٹر شعیب جٹ کو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی خواتین ایتھلیٹس پر تنقید مہنگی پڑگئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے شعیب جٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ناخواندہ، عورت بیزار اور صحافتی اخلاقیات سے عاری قرار دیدیا۔
یہ بھی پڑھیے
بابراعظم کا قومی ہیرو نوح دستگیر بٹ کیلیے20لاکھ روپے انعام کا اعلان
شعیب اختر کی 8 گھنٹے طویل آپریشن سے قبل قوم سے دعاکی اپیل
شعیب جٹ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنے والی خواتین اسپرنٹر انیلا گلزار کی ساتھی کھلاڑ ی کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
شعیب جٹ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ شاپنگ کا وقت شروع ہوگیا؟ انیلا گلزار نے خود کو باہر نکال لیا ہے، وہ 200 میٹر کی دوڑ میں حصہ نہیں لیں گی۔
Shopping time start ?????
Anila Gulzar pul out herself, she won’t run 🏃♀️ in 200 mtr tomorrow pic.twitter.com/YfY8o0GwzL— Shoaib Jatt (@Shoaib_Jatt) August 3, 2022
شعیب جٹ نے ایک اور ٹوئٹ میں اسپرنٹر انیلا گلزار اور نجمہ پروین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ فیڈریشن اور حکومت نے دونوں کو بھیجنے کی مخالفت کی ، عارف حسن پھر بھی زبردستی لے گئے۔
شعیب جٹ نے لکھا کہ کامن ویلتھ گیمز میں انیلا گلزار 100میٹر میں دوڑی اور 200میٹر کیلیے ان فٹ ہوگئی۔ ٹوکیو اولمپکس میں نجمہ پروین 200 میٹر میں دوڑی اور 400 کیلیے ان فٹ ہوگئی، دنیا پاکستان پر ہنس رہی ہے۔
🇵🇰 فیڈریشن / حکومت نے دونوں کو بھیجنے کی مخالفت کی۔عارف حسن پھربھی زبردستی لے گئے
کامن ویلتھ گیمز ٹوکیو اولمپکس
انیلہ گلزار نجمہ پروین
100 میٹر دوڑی 200 میٹر دوڑی
200 کیلئے ان فٹ 400 کیلئے ان فٹ
World is laughing on 🇵🇰 pic.twitter.com/kFfsBJo6gx— Shoaib Jatt (@Shoaib_Jatt) August 3, 2022
ٹوئٹر صارفین نے پاکستانی ایتھلیٹس بالخصوص خواتین کو تنقید کا نشانہ بنانے پر شعیب جٹ کی شدیدمذمت کی ہے۔ایک صارف نےلکھاکہ آپ آج کل تنقید کافی کررہے ہیں، انڈین میڈیا کو کاپی کرنا بند کردیں کچھ تو مثبت کرلیں۔
Ap aj kal tankeed kafi kr rhy hn indian media ko copy krna band kch to positivity kr lein
— Ehsan Ullah (@EhsanUllah64) August 3, 2022
ایک صارف نے لکھا کہ آپ اپنے پیشے کیلیے شرمندگی کا باعث ہیں۔ایک صارف نے شعیب جٹ کو کچرا صحافت کرنے کا طعنہ دیا۔ ایک صارف نے سوال کیا کہ آپ بچپن سے ایسے تھے یا بڑے ہوکرایسے ہوگئے ہو؟ ایک صارف نے لکھاکہ تم سے بڑا نالائق انسا ن میں پوری زندگی نہیں دیکھا۔ ایک صارف نے لکھا کہ کتنا گرو گے بھائی؟
you are a disgrace to your profession
— Ali Sid (@Janab_e_Ali) August 3, 2022
Trash journalism!
— Shafqat Shabbir (@Chefkat23) August 3, 2022
Bachpan sy aisay thay ap ya baray ho k aisay ho gayay ho 🙄😐
— chinto.minto 💕🇵🇰💕 (@tyba_here) August 3, 2022
Tujh se zada bara jahil aur nalaiq insan maine poori zindagi main nahi dekha.
— Maskedman🇵🇰 (@Maskedman197) August 4, 2022
ایک صارف نے مشورہ دیا کہ بہت افسوسناک ہے،شعیب بھائی ایسی رپورٹنگ نہ کیا کریں ، آپ کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔ ایک صارف نے انہیں ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے علاج کرانے کا مشورہ دیدیا۔
Very sad shoaib… plz aisi reporting na kia krn… ap ka image down ho ga…
— Inam ur Rehman (@inam983176) August 4, 2022
Tu zehni mareez tou nahin. Ilaaj kerwas apna
— Ijaz Shah (@ijaz_pindi_1991) August 4, 2022
I don’t understand how an illiterate, misogynistic piece of shit like yourself is allowed to call himself a journalist. You’re a disgrace to your profession, to your family and to this country. Please stop embarrassing yourself and call it a day for good
— Mahad Asim (@mahdasim95) August 3, 2022
ایک صارف نے لکھا کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ جیسے ناخواندہ، بدتمیزی کرنے والے کو خود کو صحافی کہلوانے کی اجازت کیسے دی جاتی ہے۔ آپ اپنے پیشے، اپنے خاندان اور اس ملک کیلیے بدنامی کا باعث ہیں۔ براہ کرم اپنے آپ کو شرمندہ کروانا بند کردیں ۔









