جاپان کے عالمی شہرت یافتہ ریسلر اینوکی 79 برس کی عمر میں چل بسے
اینوکی 1979 میں پاکستانی جھارا پہلوان سے شکست کے بعد وہ پاکستان میں مقبول ہوئے تھے، صدام حسین کی دعوت پر انہوں نے اسلام قبول کیا تھا، رکن پارلیمنٹ بھی رہے

جاپان کے عالمی شہرت یافتہ ریسلرمحمد حسین اینوکی عرف انٹونیو اینوکی مختصر علالت کے بعد 79 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
جاپانی میڈیا کے مطابق ریسلر اینوکی کچھ عرصے سے خرابی صحت کے سبب اسپتال میں داخل تھے جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔جاپانی میڈیا کے مطابق جاپانی حکومت اور قوم نے عالمی شہرت یافتہ ریسلر کی وفات پر گہرےدکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ایشین بوائے عثمان وزیر نے ورلڈ یوتھ ٹائٹل جیت کر پاکستان کا نام روشن کردیا
بابر اعظم اور ویرات کوہلی کے بچپن میں کیا چیزیں مشترک تھیں؟
وزیراعظم شہباز شریف نے اینوکی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی ٹوئٹ میں لکھا کہ لیجنڈری جاپانی پہلوان انتونیو انوکی کے انتقال کے بارے میں جان کر دکھ ہوا۔ مجھے ان سے 10 سال قبل لاہور کے ایک اسٹیڈیم میں ہونے والی یادگار ملاقات یاد ہے۔انہوں نے اپنی کشتی کی نایاب مہارت سے پوری نسل کو مسحور کیے رکھا۔میں ان کے خاندان اور جاپانی قوم سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
Sad to learn about the passing of legendary Japanese wrestler Antonio Inoki. I have a vivid memory of meeting him at a stadium in Lahore 10 years ago. He mesmerized a whole generation with his rare wrestling prowess. My condolences are with his family & Japanese people. pic.twitter.com/Drrzz2ZhfI
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 1, 2022
اینوکی پاکستان اور پاکستانی عوام سے بہت محبت اور انسیت رکھتے تھے، 1979 میں پاکستانی جھارا پہلوان سے شکست کے بعد وہ پاکستان میں مقبول ہوئے تھے، اینوکی نے جھارا پہلوان کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے کو جاپان میں اپنی نگرانی میں تربیت دی، اینوکی پاک بھارت امن کے فروغ کے لیے واہگہ بارڈر پر امن واک کرنا چاہتے تھے۔
جیونیوز کے مطابق اینوکی نے عراق امریکا جنگ کے دوران صدام حسین سے ذاتی تعلقات کی بنا پر درجنوں جاپانی شہریوں کو رہائی دلوائی تھی اور انہوں نے صدام حسین کی دعوت پر ہی اسلام قبول کیا جب کہ اینوکی کا اسلامی نام محمد حسین اینوکی رکھا گیا تھا۔اینوکی اپنی وفات تک جاپانی رکن پارلیمنٹ تھے اور چار دفعہ رکن پارلیمنٹ رہے۔









