لیجنڈ لیگ اسپنر عبدالقادر آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل

پاکستان اور دنیا بھر میں کھیل پر عبدالقادر کا اثر اب بھی شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔ 1970 اور 80 کی دہائیوں کے دوران انہیں لیگ اسپن باؤلنگ کے نجات دہندہ کا نام دیا گیا تھا، آئی سی سی

پاکستان کے  لیجنڈ لیگ اسپنر عبدالقادر کو  انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ہال آف فیم میں شامل کرلیا گیا ہے۔

مرحوم عبدالقادر دنیا بھر کے کرکٹرز کی باوقار فہرست میں شامل ہونے والے ساتویں پاکستانی کھلاڑی بن  گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی آل راؤنڈر ندا ڈار اکتوبر کی بہترین خاتون کرکٹر قرار

کیا پاکستان رواں ٹی 20 ورلڈکپ میں 1992 کی تاریخ دہرائے گا؟

عبدالقادر کی  ہال آف فیم میں شمولیت کا اعلان منگل کو آئی سی سی نے کیا۔ ان کے ساتھ ویسٹ انڈین شیو نارائن چندر پال اوربرطانوی خاتون کرکٹر شارلٹ ایڈورڈز کوبھی باوقار کرکٹرز کی عالمی فہرست بھی شامل کیا گیا ہے۔

عبدالقادر 67 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 236 وکٹیں حاصل کیں جبکہ انہوں نے 104 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 132 وکٹیں بھی حاصل کیں۔وہ 2019 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔

آئی سی سی نے عبدالقادر کی ہال آف فیم میں نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  ہے کہ” پاکستان اور دنیا بھر میں کھیل پر عبدالقادر کا اثر اب بھی شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔ 1970 اور 80 کی دہائیوں کے دوران انہیں لیگ اسپن باؤلنگ کے نجات دہندہ کا نام دیا گیا تھا، قادر اپنے متحرک ایکشن اور شاندار تغیر کے ساتھ کھیل کے چند عظیم بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کے لیے مشہور تھے “۔

”13 سالہ کیریئر میں ان کی 236 وکٹیں انہیں پاکستان کے ہمہ وقتی اسپنرز کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھتی ہیں۔محدود اوورز کی کرکٹ میں ان کاشمار”رسٹ اسپن “کلائی سے گیند گھمانے کا فن متعارف کرانے والے گیند بازوں میں ہوتا ہے۔وہ 1983 اور 1987 کے ورلڈ کپ  میں پاکستان ٹیم کے اہم رکن سمجھے جاتے تھے“ ۔

آئی سی سی نے مزید کہا کہ”اپنی ریٹائرمنٹ کے بعدانہوں نے کوچنگ کی طرف رجوع کیا، ساتھی ہم وطن مشتاق احمد، دانش کنیریا اور شاہد آفریدی کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے شین وارن اور جنوبی افریقہ کے عمران طاہر کی رہنمائی کی“۔

عبدالقادر کے بیٹے عثمان عبدالقادر  اب پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عثمان نے اپنے خاندان کی جانب سے آئی سی سی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ”میں اپنے والد کو ہال آف فیم میں شامل کرنے کے لیے نامزد کرنے پر آئی سی سی کا بہت بہت شکریہ اداکرنا چاہتا ہوں، خاندان کے لیے یہ خبر سننا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے، ہم اسے ایک بہت بڑی کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں اور اگر میرے والد آج ہمارے ساتھ ہوتے توانہیں اس اعزاز پر فخر ہوتا ‘‘ ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل  ظہیر عباس، وقار یونس، عمران خان، حنیف محمد، جاوید میانداد اور وسیم اکرم بھی آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہوچکے ہیں۔

متعلقہ تحاریر