ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کا پہلا سیمی فائنل: کیا ٹیم پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف 1992 کی تاریخ دہرا پائے گی

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کے پہلی سیمی فائنل میں آج پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سڈنی کے تاریخی گراؤنڈ میں آمنے سامنے ہوں گی۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل آج آمنے سامنے ہوں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیم پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف 1992 کے ورلڈ کپ کی تاریخ دہرا پائے گی۔

دونوں ٹیمیں گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مرحلے میں پہنچی تھیں، نیوزی لینڈ نے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جب کہ پاکستان کو سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اولمپیئن شہباز احمد سینئر نے عالمی ہاکی فیڈریشن کا آرڈر آف میرٹ جیت لیا

لیجنڈ لیگ اسپنر عبدالقادر آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل

1992 کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل

آج کا سیمی فائنل میچ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا جبکہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں تھیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ میچ ولنگٹن میں ہوا تھا۔

ماضی میں کس ٹیم کا پلڑا بھاری رہا

تاریخ کے جھرونکے میں دیکھیں تو پاکستان کا نیوزی لینڈ کے مقابلے میں ریکارڈ بہت بہتر ہے۔ لیکن ٹی ٹوئنٹیز کے میچز میں ماضی کے ریکارڈز سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آج کے دن بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم ہی جیتے گی۔ گوکہ پاکستان کو ماضی کے ریکارڈ کی وجہ سے ایک نفسیاتی برتری حاصل ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میچز کا مجموعی ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ

دونوں ٹیمیں اب ایک دوسرے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچز میں 28 مرتبہ آمنے سامنے آئی ہیں۔

پاکستان کی جیت: 17

نیوزی لینڈ کی جیت: 11

T20 ورلڈ کپ میں ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے 6 میچز میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آچکی ہیں۔

پاکستان کی جیت : 4 میچز

نیوزی لینڈ کی جیت: 2 میچز

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری پانچ میچز پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے تین میچز میں فتح حاصل کی ہے جبکہ دو میچز میں جیت نیوزی لینڈ کے حصے میں آئی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 میں پاکستان کی کارکردگی

آئی سی سی کے زیرانتظام ہونے والے موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی ابھی تک کارکردگی کوئی زیادہ متاثر کن نہیں رہی۔

بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے اپنی ورلڈ کپ مہم کا خوفناک آغاز کیا تھا کیونکہ وہ بھارت اور زمبابوے کے خلاف اپنے ابتدائی دو میچ ہار گئے تھے۔ تاہم بعد کے تینوں میچز میں ٹیم نے شاندار کارکردگی مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابیاں سمیٹیں اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرلی۔

آج کے میچ میں پاکستانی ٹیم کو اپنے باؤلنگ اٹیک کے ساتھ بیٹنگ کے شعبے میں خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

پاکستان کے مین اسٹریم باؤلر شاہین شاہ آفریدی بنگلادیش کے خلاف چار وکٹیں حاصل کرکے دوبارہ فارم میں واپس آگئے ہیں۔

پاکستان کے مڈل آرڈر میں بھی پچھلے کچھ میچز میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔ تاہم آج کے میچ میں یقینی کامیابی کے لیے کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان کو اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

کین ولیمسن کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نیوزی لینڈ نے سپر 12 مرحلے میں اپنی مہم کے دوران تین میچ جیتے، ایک ہارا جبکہ ایک میچ بارش کی نظر ہو گیا تھا۔

ٹیم نیوزی لینڈ سپر 12 مرحلے میں انگلینڈ سے ہار گئی تھی جبکہ افغانستان کے خلاف ان کا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا۔ کیویز نے آسٹریلیا، سری لنکا اور آئرلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کی۔

متعلقہ تحاریر