فیفا کی شراب پر پابندی: خواتین بے خوف ہوکر اسٹیڈیمز کا رخ کرنے لگیں
یہاں آکر مجھے حقیقی دھچکا لگا ہے ، یہاں کسی بھی قسم کی جنس پرستی نہیں ہوئی ہے، اس ورلڈ کپ کو اپنے ملک میں کھیل کے لیے ایک ماڈل بنا یاجاسکتا ہے، برطانوی اخبار کی رپورٹ میں مغربی شائقین کی رائے

فٹبال ورلڈ کپ کے میچز کے دوران فیفا کی جانب سے اسٹیڈیمز میں شراب لانے پر پابندی کو تنقید کا سامنا ہے لیکن بہت سی خواتین شائقین نے اسٹیڈیم کو گھر سے زیادہ خوش آئند پایا ہے۔
خواتین شائقین کیلیے میچ ڈے کے تجربات کو بہتر بنانے کی مہم کی روح رواں ایلی مولوسن دورہ قطرکے بارے میں فکرمند تھیں اور ان کے والد انکے نگہبان کا کردار ادا کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
قطر فٹبال ورلڈ کپ: کروشین ملکہ حسن کی غیرمہذب لباس میں اسٹیڈیم آمد
کرسٹیانو رونالڈو لگاتار 5 ورلڈکپ میں گول کرنے والے پہلے مرد فٹبالر بن گئے
برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مولوسن اور انگلینڈ کی بہت سی دوسری خواتین شائقین کا کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ کو اپنے ملک میں کھیل کے لیے ایک ماڈل بنا یاجاسکتا ہے۔
HerGameToo مہم چلانے والی 19 سالہ مولوسن نے کہا کہ”میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یہاں آکر مجھے حقیقی دھچکا لگا ہے ، یہاں کسی بھی قسم کی جنس پرستی نہیں ہوئی ہے“۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورلڈ کپ کے انعقاد سے متعلق قطر کے قواعد پر بڑے پیمانے پر مغربی تنقید بے بنیاد تھی، جیسا کہ ” بہت سی خواتین شائقین نے اسٹیڈیم کو گھر سے زیادہ خوش آئند پایا“۔
اگرچہ فیفا کی جانب سےشراب پر پابندی کے فیصلے پر قطر آنے والے کچھ شائقین کی جانب سے تنقید کی گئی ہے تاہم قطر میں مقیم بہت سے مداحوں بشمول اہل خانہ نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔
غیرملکی شائقین سے قطر کو اپنا دوسرا گھر سمجھنے کی درخواست کرنے والے قطری بینکر عبداللہ مراد علی صرف یہ چاہتے تھے کہ فٹ بال کے شائقین ان کی قوم کی ثقافت کا احترام کریں۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایاکہ”قطر ایک اسلامی ملک ہے، اور ہمارے مذہب میں شراب حرام ہے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ دنیا ہماری ثقافت کے لیے کچھ احترام کا مظاہرہ کرے“۔
علی فٹبال اسٹیڈیمز میں شراب پر پابندی کے فیفا کے فیصلے کے بارے میں کچھ شائقین کے ہنگامے کا حوالہ دے رہے تھے۔ شراب اب بھی منتخب ہوٹلوں، بارز اور آفیشل فیفا فین زون میں دستیاب ہے۔
اردن سے تعلق رکھنے والی سونیا نیماس 3 بیٹیوں کی ماں ہیں جن کی پرورش فٹبال کےپرستار گھرانے میں ہوئی۔ ان کے پاس رات گئے میچ کے ٹکٹ ہیں اور وہ اسٹیڈیم میں ہونے کے بارے میں خوفزدہ ہیں جہاں نشے میں دھت شائقین ممکنہ طور پر حاضر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کندھ اچکاتے ہوئے کہاکہ”جب ہم دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے کہ ہمیں ان کے اصولوں پر عمل کرنے یا ان کی ثقافت کا احترام کرنے کے لیے کیوں کہا جا رہا ہے،ہم بس ایساکرتے ہیں“۔جمعے کی شام قطر میں ویک اینڈ پر وہ تقریبات میں شرکت کے لیے دوحہ کے مرکزی علاقے میں نکلی تھیں۔
ان کی بیٹیاں اس کے ساتھ تھیں جنہوں نے اپنی اردنی شناخت کے لیے کیفیہ پہن رکھی تھی جبکہ میزبان ملک کے جھنڈے اور ٹوپیاں اٹھا کر قطر کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر رہی تھیں۔
نیماس نے شراب کے باعث ہونے والے تشدد کا حوالہ دیا جو گزشتہ سال انگلینڈ میں یورو 2020 چیمپئن شپ کے فائنل کے دوران ویمبلے اسٹیڈیم میں پھوٹ پڑا تھا۔ یہ وہ چیز نہیں ہے جو وہ قطر میں دیکھنا چاہتی ہے۔جب کہ انگلینڈ کے کچھ شائقین نے سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر پابندی سے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے، دوسروں نے کہا کہ یہ انہیں اچھا وقت گزارنے سے نہیں روکے گا۔
دوحہ سے تعلق رکھنے والے برطانوی اسکول ٹیچر احمد محمد نے کہا کہ تمام انگلش شائقین کو ایک ہی برش سے پینٹ کرنا غیر منصفانہ ہے۔ انگلینڈ کے شائقین کو عام طور پر غنڈے دکھائے جاتے ہیں لیکن یہ صرف ایک چھوٹی سی اقلیت ہے،اکثریت قابل احترام اور اصولوں پر عمل کرتی ہے“۔
انہوں نے کہا کہ کچھ برطانوی شائقین شراب پر پابندی سے ناخوش ہیں لیکن اکثریت اس فیصلے کا احترام کرے گی اور لطف اندوز ہوگی۔ورلڈکپ کی افتتاحی تقریب اور قطر ایکواڈور میچ دیکھنے کیلیے اسٹیڈیم کا رخ کرنے والے قطری بینکر علی نے کہاکہ یہ بالکل مشکل نہیں ہونا چاہیے ، آخرکارجو لوگ مسلم ممالک میں رہتے ہیں اور فٹ بال کو فالو کرتے ہیں وہ ہر وقت شراب کے بغیرایسا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ”ایک مسلم ملک ہونے کے ناطے، ہم یہی چاہتے ہیں کہ لوگ سمجھیں کہ آپ ہاتھ میں بیئر کے بغیر کھیل سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں،فٹ بال صرف شراب پینے کے خواہشمند افراد کیلیے نہیں بلکہ سب کیلیے ہے“ ۔









