فیفا ورلڈ کپ 2022 کا فائنل: پاکستانی میڈ فٹبال "الریحلہ” سے کھیلا جائے گا
پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار ہوا والا "الریحلہ" فٹبال بائیو بیسڈ ری سائیکلنگ میٹریل سے تیار کیا گیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2022 قطر کا فائنل آج شب پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بنی فٹبال "الریحلہ”سے کھیلا جائے گا۔ فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والے فٹبال بائیو بیسڈ ری سائیکلنگ میٹریل سے بنائی گئی ہیں۔
قطر میں ہونے والے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ فائنل میں آج فرانس کا مقابلہ ارجنٹینا سے ہوگا جو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بنی فٹ بال سے کھیلا جائے گا۔
فٹ بال کے عالمی میں کپ میں مسلسل تیسری بار پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کی گئی فٹبالز استعمال کی گئی ہیں۔ جوسیالکوٹ کی معروف کمپنی فارورڈ اسپورٹس نے ایڈیڈاز کے لئے تیار کیں۔ یہ فٹ بال باضابطہ طور پر فیفا فٹ بال ورلڈ کپ میں استعمال ہوئیں جو سیالکوٹ سمیت پاکستان کے لئے بڑا اعزاز ہے۔
"الریحلہ” فٹ بال کو قطر کی ثقافت کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد بائیو بیسڈ ری سائیکلنگ میٹریل ہے اور اس کی تیاری میں ماحول دوست پانی پر مبنی کیمیکل استعمال ہوا ہے۔
یہ بال 20 پینلز پر مشتمل ہے اور اسے دنیا کے بہترین فٹ بال میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ پہلے روایتی طور پر فٹ بال ہاتھ سے سلے ہوئے تھے تاہم نئی ٹیکنالوجی تھرموس بانڈنگ پہلی بار 2014 کے ورلڈ کپ میں متعارف کرائی گئی تھی جس کا سیالکوٹ میں استعمال کیا جارہا ہے۔
سیالکوٹ ملکی برآمدات کے حوالے سے اہم شہر ہے، جو والی بال، ہاکی اسٹکس، کرکٹ بیٹ اور کھیلوں میں استعمال ہونے والے لباس سمیت کھیلوں کے مختلف سامان کی تیاری کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
فیفا کی درجہ بندی میں پاکستان 200 ویں نمبر پر آتا ہے لیکن ہاتھ سے بنے فٹبال کی پیداوار میں یہ پہلے نمبر پر ہے۔ سیالکوٹ کو فٹبال کی پیداوار کا عالمی دارالحکومت مانا جاتا ہے، جہاں دو ہزار کارخانے یہ کام کررہے ہیں۔
"الریحلہ” سے پہلے سیالکوٹ میں بنی "برازوکا” اور”البرٹ ” نامی فٹ بالز بھی ورلڈ کپ کی شان بڑھا چکی ہیں۔
پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین ارشد لطیف بٹ کہناہے کہ ملکی کل برآمدات کا 3 ارب ڈالرز سیالکوٹ کما رہا ہے جو ہمارے لیے باعث فخر ہے، اپنی پالیسیاں بہتر بناکر اسے مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہاتھ سے تیار کئے جانیوالے فٹبالز کا 70 فیصد حصہ سیالکوٹ میں تیار و برآمد کیا جاتا رہا ہے، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے حکام کے مطابق 2019 میں 4 کروڑ فٹبال برآمد کرکے 211 ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا۔ جرمنی، برطانیہ، امریکا اور ہالینڈ سمیت دیگر ممالک کو فٹبال ایکسپورٹ کی گئیں۔
فٹبال کی صنعت 2 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے، فٹبال کی مقامی صنعت اور برآمدات کے فروغ کیلئے وفاقی حکومت کی معاونت سے سیالکوٹ میں اسپورٹس انڈسٹریز ڈیولپمنٹ سینٹر (ایس آئی ڈی سی) قائم کیا گیا ہے جس کیلئے گزشتہ وفاقی حکومت نے 436 ملین روپے کے فنڈز فراہم کئے ۔
فیفا ورلڈکپ کے لحاظ سے پاکستان کے نام کو “الرحیلہ “فٹ بال کی شکل میں جس طرح پرموٹ کیا گیا ہے اس سے پاکستا ن کا مثبت تشخص پوری دنیا میں اجاگر ہوا ہے۔
پاکستان میں ہاتھ سے تیار کئے جانیوالے فٹبالز کا بڑا درآمد کنندہ جرمنی ہے جو مجموعی قومی برآمدات کا 14 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے جبکہ برطانیہ کا حصہ 10 فیصد، امریکا کا 8 فیصد اور ہالینڈ کا 7 فیصد ہے۔
1978ء میں پوری دنیا نے دیکھا جب ورلڈکپ کے لیے پہلا فٹ بال سیالکوٹ سے بن کر گیا اور پھرسب لوگ جانتے ہیں کہ 1982 میں ٹینگو کی شکل میں ایک بہت بڑی ورلڈ وائیڈ ڈاکومنٹری سامنے آئی اور وہ فٹ بال بھی سیالکوٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
یہ انتہائی فخر کی بات ہے کہ “فارورڈ سپورٹس” نے تین فٹ بال فیفا ورلڈکپ کے لیے تیار کیے ہیں۔
سیالکوٹ میں فٹ بال سازی کی دلچسپ تاریخ
متحدہ ہندوستان میں 19ویں صدی کے دوران انگریزوں کے لئے فٹ بال برطانیہ سے بذریعہ سمندری جہاز بھیجے جاتے تھے ، جو کبھی کبھار لیٹ بھی ہو جاتے تھے۔
یہ 1889ء کا واقعہ ہے،جب بحری جہاز لیٹ ہوگیا۔ بے صبرے گورے نے اپنا پھٹا ہوا گیند سیالکوٹی کو تھماتے ہوئے اسے پنکچر لگانے کو کہا۔ گورے کو یہ جان کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مرمت اصل سے بہتر تھی۔ چنانچہ اس نے اسی وقت اور پیسہ بچانے کی خاطر سیالکوٹی کو ہی مزید گیندیں بنانے کا آرڈر دے دیا۔ یہیں سے سیالکوٹیوں کا ہنر کھل کر سامنے آگیا۔ بعدازاں فٹ بال لندن سے یہاں آنے کی بجائے یہاں سے لندن بھجوائی جانے لگیں۔









