پاکستان دنیا میں سست ترین انٹرنیٹ کا حامل ملک ہے، رپورٹ
پاکستان موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے لحاظ سے 141 ممالک میں سے 118اور فکسڈ براڈ بینڈ کی رفتار کے لحاظ سے 178 ممالک میں سے150ویں نمبر پر ہے، ملک کی 15 فیصد آبادی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز سے محروم ہے، بائٹس فار آل

ملک میں ڈیجیٹل لینڈ اسکیپ اور انسانی حقوق کے بارے میں پیر کو جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا میں سست ترین انٹرنیٹ کا حامل ملک ہے، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہے۔
ڈیجیٹل حقوق کی ایک ممتاز تنظیم بائٹس فار آل پاکستان کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے انٹرنیٹ تک رسائی اور مجموعی طور پر گورننس کے حوالے سے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیونکہ ملک ایشیا میں بھی بدترین کارکردگی کے حامل ممالک میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گوگل نے صارفین کے اکاؤنٹس محفوظ بنانے کیلئے”پاس کی” ٹیکنالوجی متعارف کروادی
آئی بی ایم کا انسانوں کی بھرتیاں بند کرکے مصنوعی ذہانت سے کام لینے کا فیصلہ
انٹرنیٹ لینڈ اسکیپ رپورٹ 2022 میں کہا گیا کہ انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافے کے باوجود پاکستان کی تقریباً 15 فیصد آبادی کی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز تک رسائی نہیں ہے، جب کہ بقیہ کو سست رفتاری اور بے ترتیب سروس کا سامنا ہے۔
ایک پریس ریلیز کے مطابق دسمبر 2022 تک اوکلا کے اسپیڈٹیسٹ گلوبل انڈیکس نے دیکھا کہ پاکستان موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے لحاظ سے 141 ممالک میں سے 118اور فکسڈ براڈ بینڈ کی رفتار کے لحاظ سے 178 ممالک میں سے150ویں نمبر پر ہے، جس کی اوسط رفتار 10.15سے 15.5ایم بی پی ایس ہے۔

پاکستان میں موبائل کی ملکیت کے حوالے سے صنفی تفریق بھی وسیع ہوا جب کہ 75 فیصد مردوں کے مقابلے میں صرف نصف خواتین کے پاس موبائل فون ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں دسمبر 2022 تک ایک لاکھ سے زیادہ شکایات درج کی گئیں، جو گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنے والے متاثرین کی اکثریت خواتین کی ہے۔رپورٹ کے مطابق توہین مذہب کے الزامات، آن لائن مہم جوئی، ہجوم سازی اور بعد میں تشدد کے خطرے کے پیش نظر آن لائن ماحول خطرناک ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل اسپیس میں الزامات سے پیدا ہونے والے معاملات پر حکام کی طرف سے کوئی معنی خیز کارروائی نہیں کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 اور 2022 کے درمیان سائبر کرائم کی 3 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کی گئیں لیکن وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 124 افراد کو سزا سنائی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست نے تنقید کو روکنے اور آن لائن اسپیسز کو کنٹرول کرنے کی اپنی مبینہ کوششوں کو جاری رکھا ہوا ہے، جن میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا پر نامناسب خیالات کا اظہار کرنے پر مقدمات کا اندراج بھی شامل ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملک میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ہتک عزت کے سخت قوانین منظور کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی ای کامرس اور فن ٹیک سیکٹرز کو عالمی معاشی بدحالی اور پاکستان کے بحرانوں کی وجہ سے منفی رجحانات کا سامنا کرنا پڑا، 2022 کی دوسری ششماہی میں اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈنگ میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔فنڈنگ میں کمی کے باوجود پاکستان کے اسٹارٹ اپس 348 ملین ڈالر کے فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
دوسری طرف 2022 میں انٹرنیٹ بینکنگ کے لین دین میں 51.7 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ انٹرنیٹ بینکنگ کے صارفین تقریباً 60 فیصد بڑھ کر 31 لاکھ ہو گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کا ڈیجیٹل بینکوں کے لیے لائسنسنگ فریم ورک جاری کرنے کا اقدام ڈیجیٹل بینکنگ کی جانب پیش رفت کو مزید تیز کرے گا۔









