عوام اور کاروباری اداروں کا حکومت سے موبائل ڈیٹا سروسز بحال کرنے کا مطالبہ

رائیڈ ہیلنگ ایپس، فوڈ ڈیلیوری سروسز سے وابستہ ہزاروں اور 6 ہزار ہوم شیفس روزگار سے محروم، ٹیلی کام آپریٹرز کو انٹرنیٹ کی 24 گھنٹے کی بندش سے 82 کروڑ روپے اور حکومت کو ٹیکسز کی مد میں 28 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، کاروباری برادری اور سول سوسائٹی کے 100 سے زائد ارکان کا مشترکہ بیان

شہریوں اور کاروباری اداروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موبائل ڈیٹا سروسز کو بحال کرے کیونکہ اس کی عدم موجودگی بہت زیادہ معاشی نقصانات کا باعث بن رہی ہے۔

ملک میں لاکھوں شہری روزانہ روزی کمانے اور بلوں کی ادائیگی سے لے کر سودا سلف کی خریداری سمیت تقریباً ہر چیز کیلیے انٹرنیٹ پرانحصار کرتے ہیں۔

حکومت نے منگل کو تحریک انصاف  کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے آغاز پر انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مسلسل تین روز سے انٹر نیٹ سے محروم پاکستانیوں نے وی پی این کا سہارا لینا شروع کردیا

انٹرنیٹ کی بندش سے حکومتی محصولات اور ٹیلی کام کمپنیز  کو اربوں روپے کا نقصان

انگریزی روزنامہ ڈان کے کے مطابق کاروباری برادری اور سول سوسائٹی کے 100 سے زائد اراکین نے ایک مشترکہ بیان میں  کہا  ہے کہ”ہم  ملک گیر احتجاج کے پیش نظر انٹرنیٹ کی  جزوی و مکمل بندش ، مخصوص مواد اور ایپلی کیشنز پر عائد کردہ پابندی سے پریشا ن ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں “۔

ان کا کہنا تھا کہ”اس طرح کی بندش اور انٹرنیٹ سروسز کو بلاک یا فلٹر کرکے پرامن اجتماع کے حقوق اور انجمن سازی اور اظہار کی آزادی کو بلاجواز حد تک محدود کیا جاتا ہے“۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ”کروڑوں پاکستانی ایک دوسرے سے جڑنے اور ضروری کاروباری سرگرمیاں کرنے کے لیے انٹرنیٹ سے وابستہ خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔ ان خدمات کو بلاک کرنے، فلٹر کرنے یا بند کرنے سے حکومت شہری آزادی کو ختم کر رہی ہےاور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے ماحول کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ صحت کی دیکھ بھال اور ہنگامی ومالیاتی خدمات تک رسائی میں خلل ڈال رہی ہے“۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی اس طرح کی رکاوٹوں نے پاکستانی اسٹارٹ اپس پر منفی اثر ڈالاجنہوں نے نے 2022 اور 2023 کے دوران 70 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کیا اور پوری معیشت میں انٹرپرینیورشپ، روزگار کی تخلیق اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں“۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد میں سینکڑوں اور ہزاروں فری لانسرز اور ڈیجیٹل تخلیق کار بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ”ہم حکومت پاکستان سے ان پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانے کاپرزور مطالبہ کرتے ہیں جن کا مقصد شہریوں کو آن لائن معلومات تک رسائی ، اسے پھیلانے اور محفوظ طریقے سے بات چیت کرنے سے روکنا ہے“۔

انہوں نے کہا کہ”ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ تک رسائی کو ایک بنیادی بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے جسے من مانی طور پر نہیں چھینا جا سکتا“۔

ملک میں انٹرنیٹ کی بندش سے عام لوگوں کے علاوہ ہزاروں نہیں تو سیکڑوں  کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ بائیکیا، کریم اور ان ڈرائیو جیسی رائیڈ ہیلنگ ایپلی کیشنز نے بھی موبائل انٹرنیٹ کی بندش سے  نقصان اٹھایا ہے، کیونکہ ان کے صارفین، ڈرائیور اور مسافر ،دونوں کو  چلتے پھرتے موبائل ڈیٹا کی ضرورت ہے۔

ایک رائیڈ ہیلنگ کمپنی کے ایک سینئر افسر نے کہاکہ ’’انٹرنیٹ سروس میں خلل نہ صرف ہمارے کپتانوں  کیلیے نقصان کا باعث بنتا ہے  بلکہ صارفین کو بھی اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے سواریوں کے حصول میں   شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔

انٹرنیٹ کی بندش فوڈ پانڈا اور چیتے جیسی  آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسزاوران کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے سیکڑوں ریسٹورنٹس  کے علاوہ  تقریباً 6ہزار ہوم شیفس  کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

جاز کیش اور ایزی پیسہ  جیسے ڈیجیٹل والیٹس نے آگاہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی  خدمات معطل ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے دوران روزانہ کی لین دین کی تعداد ایک تہائی تک کم ہو گئی ہے، کیونکہ ان والیٹ سروسز کامنی بینکوں کی طرح استعمال کرنے والے دکاندار اور ایجنٹ   زیادہ تر موبائل ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب ٹیلی کام کمپنیوں نے بھی موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جاز پاکستان کے سی ای او عامر ابراہیم نے بدھ کو ایک ٹوئٹ میں لکھاکہ”انٹرنیٹ بند کرنا کسی بھی چیز کا حل نہیں تھا،تقریباً 24 گھنٹے سے12کروڑ 50لاکھ  پاکستانی موبائل انٹرنیٹ کے بغیر رہ رہے ہیں جو کہ ہنگامی حالات اور پیداواری صلاحیت کا ایک اہم ذریعہ ہے“۔

عامر ابراہیم نے  بزنس ریکارڈر کی ایک خبر کا حوالہ بھی دیا  جس میں بدھ کو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ انٹرنیٹ کی صرف ایک دن کی  معطلی سے  ٹیلی کام آپریٹرز کو 82کروڑ  روپے کا نقصان ہوا ہے، جب کہ حکومت کو ٹیکس ریونیو میں تقریباً 28کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ”انٹرنیٹ کی بندش کے معیشت پر تباہ کن اثرات کو شمار کیا جاسکتا ہے  لیکن لوگوں کو ہونے والی تکلیف کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا“۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد زوہیب خان نے بھی موبائل ڈیٹا کی معطلی پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے”ناقابل فہم“فیصلہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ”آئی ٹی کی صنعت منگل کی شام سے ٹھپ  ہے،انٹرنیٹ ہماری لائف لائن، ہمارا دفتر، ہمارا مواصلاتی ڈھانچہ ہے، آئی ٹی  کی صنعت اس کے بغیر کام نہیں کر سکتی“۔

انہوں نے کہا کہ بگڑی ہوئی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ملک میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کی مکمل بندش اور فکسڈ لائن انٹرنیٹ کی سست روی کا فیصلہ مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔

زوہیب  خان نے کہا کہ آئی ٹی اور ان اس سے منسلک خدمات  پہلے ہی ان کی غلط اور متضاد حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھیں اور موجودہ سیاسی بحران نے آئی ٹی انڈسٹری کے کام کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔

زوہیب خان  نے کہا کہ آئی ٹی کے بیشتر پیشہ ور افراد مختلف وجوہات کی وجہ سے گھر سے کام کر رہے ہیں۔انہوں  نے وزیر اعظم شہباز شریف پر زور دیا کہ وہ مداخلت کریں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی ہدایت کریں۔

متعلقہ تحاریر