تحریک انصاف کے پشاور جلسے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
شرکا کی تعداد 20 سے 60ہزار تھی، تجزیہ کاروں کے متضاد دعوے: پاکستانی میڈیا نے کل رات پشاور میں عمران خان کے بڑے شو کو بلیک آؤٹ کرکے اپنی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے، سینئر صحافی

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان امریکی سازش کے تحت حکومت گرانے کا بیانیہ لیکر نومنتخب حکومت کیخلاف باقاعدہ طور پر سڑکوں پر آگئے ہیں۔
گزشتہ روز تحریک انصاف نے پشاور میں رنگ روڈ پر تاریخی جلسہ کیا ہے جس میں رمضان المبارک اور ورکنگ ڈے کے باوجود خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کے انعقاد تک سڑکوں پر رہیں گے، عمران خان کا بڑا اعلان
بیرونی طاقتیں عمران خان کو قتل کروانے کی کوشش کرسکتی ہیں، شیخ رشید
قومی اور بین الاقوامی تجزیہ کار اور پشاور کے مقامی صحافی جلسے کے شرکا کی تعداد کے حوالے سے متضاد دعوے کررہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جلسے کے شرکا کی تعداد 20سے 30 ہزار تھی جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ شرکا کی تعداد 50 سے 60ہزار تھی۔
نیوز 360 کے پشاور میں موجود نامہ نگار احتشام آفریدی کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جلسے کے شرکا کی تعداد 30 ہزار سے زائد تھی۔ پنڈال شرکا سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جبکہ اطراف کی سڑکوں پر بھی لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی محمود جان بابر نے تحریک انصاف کے پاور شو کو بڑا جلسہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جلسے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی ہے۔سینئر صحافی اور ڈان نیوز پشاور کے بیورو چیف علی اکبر کے مطابق جلسے کے شرکا کی تعداد 60 ہزار کے لگ بھگ تھی۔انہوں نے کہا کہ جب 60،50 ہزار کی تعداد میں لوگ آجائیں تو ایسے اجتماع کی ہیڈلائن لاکھوں میں بھی بنتی ہے، یہ اچھا خاصا کراؤڈ تھا ۔
کتنے ادمی تھے!
حکومت ختم ہونے کے بعد پشاور میں عمران خان کا پہلا جلسہ۔ سینئر صحافی علی اکبر کا تجزیہ#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور #امپورٹڈ_گورمنٹ_نامنظور pic.twitter.com/nqEDqfuamo
— Mehmood Jan Babar (@MehmoodJan1) April 13, 2022
سینئر صحافی انس ملک اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی آج پشاور میں جس ہجوم کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس کی طاقت کو کم ظاہر کرنا غلط ہوگا۔ یقیناً یہ شہر کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسوں میں سے ایک تھا۔
Would be wrong to underestimate the strength of today’s crowd that Imran Khan and PTI has managed to pull today in Peshawar – Definitely one of the biggest in the city’s history. #Pakistan
— Anas Mallick (@AnasMallick) April 13, 2022
گلف نیوز سے وابستہ پاکستانی صحافی ثنا جمال نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ عمران خان کیلیے پشاور میں بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوئے ہیں ،. پاکستانی فوری، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Massive, massive crowd in Peshawar for @ImranKhanPTI. Pakistanis are demanding immediate, free and fair elections. #PeshawarJalsa pic.twitter.com/1Jx4czjr2b
— Sana Jamal (@Sana_Jamal) April 13, 2022
سینئر صحافی افتخار فردوس نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا پی ٹی آئی نے پشاور میں پاور شوکا مظاہرہ کیا ہے، عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے سے پہلے کے جلسے سے اس کا موازنہ کریں۔ ایسے خاندان بھی تھے جو گاڑیوں میں موجود تھے اور جلسہ گاہ نہیں آسکے۔
Quite a power show by PTI in #Peshawar.. considering the comparison with the previous gathering before Imran Khan was ousted from office. There were families in cars who couldn’t make it to the ground. pic.twitter.com/jEskZ1U7VU
— Iftikhar Firdous (@IftikharFirdous) April 13, 2022
سما ٹی وی پشاور کے بیورو چیف طارق آفاق نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد ذرائع کے مطابق پشاور جلسہ میں شرکاء کی تعداد 20 ہزار سے زائد تھی۔جلسے میں کوہاٹ،نوشہرہ،مردان،صوابی،چارسدہ،ملاکنڈ، مہمند اور خیبر کے کارکنوں نے شرکت کی۔۔۔پشاور کے مقامی شہریوں کی تعداد بہت کم تھی۔۔۔عمران خان کی تقریر کے دوران ہی دور اضلاع کے کارکن واپس چلے گئے تھے۔
آزاد ذرائع کے مطابق پشاور جلسہ میں شرکاء کی تعداد 20 ہزار سے زائد تھی۔۔۔۔۔جلسے میں کوہاٹ،نوشہرہ،مردان،صوابی،چارسدہ،ملاکنڈ، مہمند اور خیبر کے کارکنوں نے شرکت کی۔۔۔پشاور کے مقامی شہریوں کی تعداد بہت کم تھی۔۔۔عمران خان کی تقریر کے دوران ہی دور اضلاع کے کارکن واپس چلے گئے تھے۔
— Tariq Afaq (@tariqafaq) April 14, 2022
پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی عارف یوسفزئی نے بھی جلسے کو عوامی شمولیت کے حساب سے اچھا قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاہم حالات کی مناسبت سے جلسہ میں لوگوں کی شمولیت زیادہ ہونی چاہیئے تھی۔ آخر پورے پختونخوا سے ورکرز کو کال دی گئی تھی۔
جلسہ عوامی شمولیت کے حساب سے اچھا ہے۔ پشاور میں افطار کے بعد سحری تک ویسے بھی عوام کے لئے کوئی شغل ہونا چاہیئے۔
تاہم حالات کی مناسبت سے جلسہ میں لوگوں کی شمولیت زیادہ ہونی چاہیئے تھی۔ آخر پورے پختونخوا سے ورکرز کو کال دی گئی تھی۔ https://t.co/Uwa6dH2PyG— Arif Yousafzai (@journalist11) April 13, 2022
ترک خبررساں ادارے انادولو کے ریجنل چیف نامہ نگار اسلام الدین ساجد نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے کل رات پشاور میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے بڑے شو کو بلیک آؤٹ کردیا، اس سے ملک کے اندر اور باہر پاکستانی میڈیا کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا کیونکہ میڈیا ہونے کے ناطے یہ ان کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ تمام جماعتوں کو جگہ دیں۔
Pakistani media blackout this big show of former PM Imran Khan in #Peshawar last night. It would more damage its credibility inside and outside the country because being a media it’s their professional duty to give space to all parties pic.twitter.com/v2LKNx2zIf
— Islamuddin Sajid (@islamudinsajid) April 13, 2022
خارجہ اور دفاعی امور کی سینئر تجزیہ کار ہما بقائی نے پشاور جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ پشاور کا جلسہ اس رجحان کی طرف اشارہ ہے جواب نہیں رکے گا، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں مزید پولرائزیشن نہ ہو تو توجہ دی جانی چاہیے۔ عمران خان کا بیانیہ دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
The Peshawar jalsa is indicative of a trend that will not stop … thus it must be addressed if we don’t want the country to get more polarised , IKs narrative is getting stronger by the day
— Huma Baqai (@_baqai) April 13, 2022
برطانوی جریدے اکانومسٹ کے مضمون نگار اسٹیو ہینک نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ کے پی کے میں دسیوں ہزار لوگ عمران خان کی برطرفی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس نے احتجاج کی رپورٹنگ جاری رکھی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
Tens of thousands of people have taken to the streets in KPK, one of the 4 provinces of Pakistan, to protest against the removal of Imran Khan. The media has been threatened w/ “serious consequences” if it continues to report on the protests. Take a lookpic.twitter.com/5YIHJUemLf
— Steve Hanke (@steve_hanke) April 13, 2022
بھارتی تجزیہ کار اشوک سوائن نے لکھا کہ پارلیمنٹ میں شکست کے بعد عمران خان پاکستان کی سڑکوں پر اپنی قوت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
Imran Khan, after losing in the Parliament, showing his strength in the streets of Pakistan! pic.twitter.com/YKVqDxK345
— Ashok Swain (@ashoswai) April 13, 2022
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی جارحانہ سیاست کے نتیجے میں معاشرے میں تقسیم اور عدم برداشت بڑھتی جارہی ہے۔سیاسی رہنما عوامی اجتماعات میں ایک دوسرے کیخلاف لفظی گولہ باری کرتے نظر آتے ہیں تو برسرزمین ان کے کارکنان آپس میں دست و گریباں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
پی ٹی آئی کارکنوں کے مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنان سے لڑائی جھگڑے کے واقعات تواتر سے سامنے آرہے ہیں ۔پیر کی شام جہاں سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کی خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں وہیں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں جھگڑے کی خبریں بھی رپورٹ ہونا شروع ہوئیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کے دوران مقامی مسجد میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
پی ٹی آئی کارکنان کا تیمرگرہ دیر لوئر کے گورگوری چوک قاضی پلازہ مفتی محسن محمود کے مسجد پر حملہ۔
مسجد میں امام مسجد کی داڑھی بھی نکالی گئی۔
1/2 pic.twitter.com/AV77YZEHCb— Hoorain Pervaiz (@HoorainPervaiz1) April 11, 2022
اسی علاقے سے ایک اور خبر آئی کہ سوشل میڈیا پر مخالفانہ کمنٹس سے شروع ہونے والے تنازعے نے جھگڑے کی صورت اختیار کرلی۔ فائرنگ ہوئی جس میں دو افراد زخمی ہوگئے۔
کل رات دیر لوئر میں سیاسی بحث چھیڑ نے پر فائرنگ ، جس کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی، بحث کمینٹ سے اگے بڑی ،
پختونوں ! عقل بہ درپکی کلہ رازی،
کس کیلئے جان دے رہے ہو
اور کس کےلئے کسی کا جان لے رہے ہو،
افسوس۔— 𝕾𝖚𝖍𝖓𝖎 𝕯𝖆𝖗𝖙𝖎🇵🇰 (@ShamsZ55) April 13, 2022
منگل کووفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متصل ہری پور کے علاقے حطار میں ایک فیکٹری میں سیاسی بحث کے دوران جھگڑے میں دوست نے دوست کو قتل کردیا۔
سیاست میں عدم برداشت اور بڑھتی جنونیت کا پہلا نتیجہ۔اطلاعات کیمطابق حطار انڈسٹریل اسٹیٹ مشہور کمپنی وولٹا بیٹری میں سیاسی بحث پر ٹیکسلا کا نوجوان قتل .سیاسی گفتگو پر دو دوستوں کے درمیان ہاتھ پائی ہوئی ۔عتیق نامی نوجوان نے اپنے قریبی دوست کو سر پر راڈ مار کر قتل کر دیا۔ pic.twitter.com/aWlhczchgM
— Tariq Habib (@tariqhabib1) April 13, 2022
واقعے کی تفصیل شیئر کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ بیٹریاں بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے والے دو افراد کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد ایک نے دوسرے کو راڈ سے مارا، زخمی کو اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔
منگل کی شام ہی میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے باغی رکن قومی اسمبلی نور عالم خان اور پی ٹی آئی کے کارکن کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا تھا۔
بزرگ صاحب گالیاں دے کر بوتل مارتے ہوئے۔۔اب جواب میں انہیں پھول پڑیں گے؟ جب آپ اپنے کارکنان کو تشدد پر اکسائیں گے، آپکے رہنما بم باندھ کر اپوزیشن کو اڑانے کی باتیں کریں گے تو گلی کوچوں میں یہی ہو گا۔ ٹویٹ کا مطلب تشدد کو درست کہنا نہیں۔آنکھیں کھولیں آنکھیںpic.twitter.com/K078yALX2N
— Adil Shahzeb (@adilshahzeb) April 12, 2022
اسی روز نجی نیوز چینل نیو نیوز کے میزبان نصراللہ ملک کو سیاسی پروگرام کی کوریج کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے گھیر لیا۔ اس موقع پر جہاں ان کے خلاف نعرے لگائے گئے وہیں بحث کے دوران انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔موقع پر موجود افراد نے جذباتی کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تاہم ٹیلی ویژن میزبان کے خلاف نعرے لگانے اور ہوٹنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
پی ٹی آئی جلسے کی کوریج کے دوران سینئر صحافی کو پی ٹی آئی کارکنوں کی گالیاں اور دھکے ۔۔لفافہ لینے کا الزام۔۔۔ آومسجد چل کر فیصلہ کر لیتے ہیں، نصراللہ ملک کا چیلنج!#NasrullahMalik pic.twitter.com/sd7rgkmJiz
— Sabookh Syed | سبوخ سید (@SaboohSyed) April 11, 2022
منگل کے دن ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹو دی پوائنٹ ود منصور علی خان میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما جمشید چیمہ نے میریٹ ہوٹل میں پیش آئے واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے باغی ارکان کے بارے میں کہاکہ انہوں نے میری امانت میں خیانت کی ہے، میں انہیں سیاسی چو ر کہوں ڈاکو کہوں، گھٹیا کہوں،دو نمبر کہوں میں کہوں گا۔
میزبان نے سوال کیا کہ اگر اس طرز عمل سے کوئی جانی نقصان ہوگیا تو؟؟ اس سوال پر جمشید چیمہ نے کمال بے نیازی سے کہا کہ نقصان ہوتا ہے تو ہو جائے۔
ایسی ہی کچھ غیر سنجیدہ اور غیر ذمے دارانہ گفتگو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے بھی کی ہے۔
جو بولے گا اس کا وہی حشر کریں گے جو کل میریئٹ ہوٹل میں ہوا: عطا تارڑ کی عوام کو دھمکی pic.twitter.com/Mo4CdTvQyM
— Salman Durrani (@DurraniViews) April 13, 2022
انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں پیش آئے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عطار تارڑ نے کہا کہ ہمارے کسی رکن کی طرف کسی نے کوئی نعرہ لگایا،کوئی گالی دی کوئی آواز نکالی تو اس سے بھی زیادہ برا حشر ہوگا، ہم نے اپنے کارکنان کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں۔









