جونی ڈیپ نے سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ جیت لیا
تشدد کے جھوٹے الزامات لگانے پر امریکی اداکارہ سابقہ شوہر کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کریں گی،اداکار جانی ڈیپ پر بھی ایک الزام ثابت سابقہ اہلیہ کو 20 لاکھ ڈالر ہرجانہ اداکریں گی، اداکارہ نے فیصلے کو مایوس کن قرا دیدیا

ہالی ووڈ کے معروف اداکار جونی ڈیپ نے اپنی سابقہ اہلیہ اور اداکارہ ایمبر ہرڈ کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
امریکی جیوری نے اداکارہ کو اپنے سابق شوہر کیخلاف تشدد کے جھوٹے الزامات لگانے پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔ جانی ڈیپ کو بھی ان کی سابقہ اہلیہ کے 3 میں سے ایک الزام میں قصور وار قرار دیتے ہوئے 20 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
امبر ہرڈ نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو امریکی خواتین سے اظہار رائے کی آزادی چھیننے کے مترادف قرار دیدیا۔
یہ بھی پڑھیے
ہالی ووڈ اداکار جونی ڈیپ نئی فلم میں فرانسیسی بادشاہ کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار
عشنا شاہ بھی جونی ڈیپ کی حمایت میں سامنے آگئیں
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 100 ملین ڈالر ہرجانے کے جونی ڈیپ بمقابلہ ایمبر ہرڈ ہتک عزت کے مقدمے میں 7ہفتوں کے ٹرائل کے بعد امریکی ریاست ورجینیا کی جیوری نے جونی ڈیپ کے حق میں فیصلہ سنا یا۔
اداکار جونی ڈیپ اور ان کی سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ 11 اپریل کو ورجینیا میں شروع ہونے والے ہتک عزت کے مقدمے میں ایک دوسرے پر جسمانی اور جذباتی زیادتی کا الزام لگارہے تھے۔
جونی ڈیپ نے اپنی سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ پر 50 ملین ڈالر کا مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد ہرڈ نے اداکار کے خلاف 100 ملین ڈالر کا مقدمہ دائر کردیا۔دونوں کا دعویٰ تھا کہ ایک دوسرے نے انہیں بدنام کیا۔
جونی ڈیپ نے اپنی سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیتنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ اداکار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جیوری نے مجھے میری زندگی واپس لوٹا دی،سچ کبھی چھپ نہیں سکتا ۔
View this post on Instagram
دوسری جانب اداکارہ ایمبر ہرڈ نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں جیوری کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیدیا۔انہوں نے لکھا کہ میں آج جو مایوسی محسوس کر رہی ہوں وہ ناقابل بیان ہے ، میں دل شکستہ ہوں کہ شواہد کا پہاڑ بھی میرے سابق شوہر کی غیر متناسب طاقت، اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی تھا۔
— Amber Heard (@realamberheard) June 1, 2022
انہوں نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں یہ مقدمہ ہار گئی ہوں لیکن مجھے اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ بطور امریکی جو حق میرا خیال تھا میرے پاس ہے یعنی آزادی اظہار رائے وہ میں نے کھو دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ مایوسی اس بات پر ہے کہ اس فیصلے کا دوسری خواتین پر کیا اثر ہو گا۔ یہ ایک دھچکا ہے۔ یہ ہمیں اس وقت میں واپس لے گیا ہے جب ایک خاتون کو آزادی سے بولنے پر عوامی طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی اور برطانوی میڈیا میں جانی ڈیپ اور ان کی وکلا کی ٹیم میں شامل نوجوان وکیل کمیلے ویسکیوز کے معاشقے کے چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق تقریباً پونے 2 ماہ سے جاری مقدمے کی کارروائی میڈیا اور سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی گئی اس دوران متعدد مواقع پر جانی ڈیپ اور ان کی خاتون وکیل کو جذباتی انداز میں گلے ملتے اور ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے دیکھاگیا۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر جونی ڈیپ اور انکی خاتون وکیل میں واقعی کوئی معاشقہ ہے تو یہ ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ میڈونا کی فلم ”باڈی آف ایوی ڈنس“ کی کہانی کا حقیقت میں بدلنا ہوگا کیونکہ1993میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں اداکارہ میڈونا نے ایک ملزمہ کا کردارادا کیا تھا جس پر دولت ہتھیانے کیلیے اپنے شوہر کو قتل کرنے کا الزام تھا۔اس فلم میں اداکارولیم ڈفوئے نے وکیل کا کردار ادا کیا تھا جو کیس کی پیروی کے دوران اپنی موکلہ کے عشق میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کیس جیتنے کے بعد جونی ڈیپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان کو امریکی اداکارہ جینفرانسٹن،بیلاحدید،زوئے سلدانا ، سونم کپوراور پاکستانی اداکاراؤں صدف کنول اور زرین خان سمیت 13لاکھ افراد نے پسند کیا ہے۔

دوسری جانب ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے کے بعد ہتک عزت کا مقدمہ لڑنے والے پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر نے کیس کے فیصلے کے بعد جونی ڈیپ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
Even a true empath could only understand a small percentage of what Johnny Depp must’ve gone through. The truth remains that no verdict or amount of money can bring him back 6 prime years of his life. The art he could’ve produced. Smiles he could’ve brought. #JohnnyDepp https://t.co/374b2dlMGN
— Ali Zafar (@AliZafarsays) June 2, 2022
علی ظفر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جانی ڈیپ جس کیفیت سے گزرا ہوگا کوئی حقیقی ہمدرد بھی اس کرب کی اذیت کے کچھ ہی حصے کو محسوس کرسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فیصلہ یا رقم اس کی زندگی کے 6 قیمتی سال واپس نہیں لا سکتی۔ نہ وہ فن جو وہ تیار کر سکتا تھا اور نہ وہ مسکراہٹیں جو وہ بکھیرسکتا تھا۔









