پٹرول کی بڑھتی قیمت: 62فیصد پاکستانیوں نے لیگی حکومت کے جواز مسترد کردیے

فرانسیسی مارکیٹ ریسرچ کمپنی اپسوس کا تازہ سروے جاری،64فیصد پاکستانیوں نے قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ کردیا، پٹرول 285 روپے لیٹر تک جائے گا، عزیر یونس، سندھ حکومت کا وزرا اور سرکاری افسران کے پٹرول کوٹے میں 40فیصد کمی کااعلان

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عام انتخابات سے متعلق حالیہ سروے نے موجودہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔62فیصد پاکستانیوں نے پٹرولیم مصنوعات  کی قیمتوں میں اضافے پر ن لیگی حکومت کی توجیحات کو ماننے سے انکار کردیا ۔

 سروے میں دوتہائی یا 64فیصد پاکستانیوں نے ملک میں قبل از وقت  عام انتخابات کا مطالبہ بھی کردیا۔دوسری جانب اٹلانٹک کونسل آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر پاکستان انیشی ایٹو عزیر یونس نے  فی لیٹر پٹرول 285 روپےتک جانے کی  بری خبر سنادی۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت نے بم نہیں ایٹم بم گرادیا، ایک ہفتے میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 60 روپے اضافہ

نیپرا کے عوام کو بجلی کے جھٹکے، فی یونٹ7 روپے91 پیسے مہنگا کردیا

فرانسیسی مارکیٹ ریسرچ کمپنی اپسوس کے حالیہ سروے میں   سوال کیا گیا تھا کہ آج کل پٹرول/ڈیزل کی قیمت ایک مرتبہ پھر سے بڑھانے کی بات ہورہی ہے۔اس حوالے سے مندرجہ ذیل جملوں کے بارے میں بتائیں کہ آپ ان سے کس حد تک اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں۔

سروے  کے شرکا کو 2 میں سے کسی ایک  جملے کا انتخاب کرنا تھا۔پہلے جملے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت پٹرول/ڈیزل کی قیمت کا بڑھنا ناگزیر مجبوری ہے اور یہ ملک کیلیے مجموعی طور پر اچھا ہوگا ۔دوسرے جملے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت پٹرول /ڈیزل کی قیمت بڑھانا عوام کی مشکلات میں شدید اضافہ کرے گا

پہلی رائے سے صرف 19 فیصد لوگوں نے اتفاق کیا جبکہ 62فیصد لوگوں کا ماننا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی مشکلات میں شدید اضافہ کرے گا۔

اپسوس نے دعویٰ کیا ہے کہ سروے میں 10 میں سے 6 پاکستانیوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے  کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی توجیحات کو ماننے سے انکار کردیا اور اتنے ہی پاکستانیوں کا ماننا ہے کہ  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر انہیں اپنی مشکلات میں شدید اضافے کا خوف ہے۔

سروے میں  سوال  کیا گیا تھا کہ آپ کے خیال میں موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے یا وسط مدتی انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے۔ اس  سوال پر دو تہائی یا  64 فیصد پاکستانیوں نے اس رائے کا اظہار کیا  کہ  ملک میں وسط مدتی انتخابات  کا اعلان کیا جانا چاہیے اور انتخابات رواں برس ہی کروائے جانے چاہئیں جبکہ صرف 36فیصد پاکستانیوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے اور  انتخابات  آئندہ برس ہونے چاہئیں۔

دوسری جانب اٹلانٹک کونسل آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر پاکستان انیشی ایٹو عزیر یونس نے پاکستانی عوام کو خبردار کیا ہے کہ فی لیٹر پٹرول 285 روپےتک جانے کی تیاری شروع کردیں۔

عزیر یونس نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ  پٹرول پر اب بھی 9 روپے کی سبسڈی برقرار ہے،  اس کی قیمت 218روپے لیٹر ہونی چاہیے،اس میں 17 فیصد سیلز ٹیکس  اور 30 فیصد پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی شامل کردیں توروپے کی موجودہ قدر کے حساب سے پٹرول 285 روپے فی لیٹر  ہوجائے گا۔تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 80 روپے اضافے کی تیاری کرلیں۔

یاد رہے کہ  31 مئی کو وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اوگرا کی سمری  مسترد کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا تھا کہ  وزیراعظم شہبازشریف نے صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کیلیے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم 2 روز بعد ہی حکومت نے فیصلے پر یوٹرن لیتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔خیال کیا جارہا ہے کہ حکومتی فیصلے کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے  اوراپسوس کے سروے کے نتائج    عوامی غم وغصے کا ثبوت ہیں۔

ادھر سندھ حکومت نے عوام کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے صوبائی وزرا اور سرکاری افسران کے پٹرول کے کوٹے میں 40فیصد کٹوتی کا اعلان کردیا۔

متعلقہ تحاریر