قطر کا زیدان کے متنازع مجسمے کی دوبارہ تنصیب کا فیصلہ

زیدان نے ورلڈکپ 2006 کے فائنل میں اطالوی حریف کو سرمار دیا تھا، فرانسیسی مجسمہ ساز عدل عبدالصمد نے 2013میں اس منظر سے مشابہہ مجسمہ ”کوپ دی ٹیٹے“ بنایا تھا جسے دوحہ کے ساحل پر تنصٰب کے کچھ دن بعد عوامی تنقید کی وجہ سے ہٹادیا گیا تھا

قطر نے ورلڈ کپ 2006 کے فائنل کے دوران الجزائری نژاد فرانسیسی  فٹبالر زین الدین زیدان کی جانب سے اطالوی حریف مارکو ماتیرازی کو سر مارنے کی منظر کشی کرتے مجسمے کی دوبارہ  تنصیب پر غور شروع کردیا۔

اس بات کا عندیہ قطر میوزیم کی  سربراہ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران کیا ہے۔”کوپ دی ٹیٹے“ نامی 5 میٹر طویل کانسی کے  مجسمے کو الجزائری نژاد فرانسیسی مجسمہ ساز عدل عبدالصمد نے 2013میں تیار کیا تھا جسے دوحہ میں تنصیب کے کچھ عرصے بعد ہی  داخلی تنقید کے بعد ہٹادیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی بلے باز جوئے روٹ کی وکٹ پر جادوگری کی وڈیو وائرل

سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے پر پریشان

کچھ قدامت پسند ناقدین نے مجسمے کی تنصیب کو مسلم ملک میں بت پرستی کو فروغ دینے کا محرک قرار دیا تھا تو کچھ ناقدین نے  اسے تشدد کی حوصلہ افزائی  سے تعبیر کیا تھا ۔

قطر میوزیم  کی سربراہ اور امیر قطر کی ہمشیرہ شیخہ المیاسہ الثانی نے مزید کہا ہے کہ   معاشرے ارتقا کے عمل سے گزرتے ہیں  اور اس میں وقت لگتا ہے ،لوگ شروع میں کسی چیز پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن پھر اسے سمجھتے اور اس کی عادت ڈال لیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کے ساحل  پر جس جگہ مجسمہ نصب کیا گیا  تھا وہ ٹھیک نہیں تھے،اب  مجسمے کو دوحہ کے ایک نئے اسپورٹس میوزیم میں  نصب کیا جائے گا۔

کچھ قدامت پسند مسلمانوں کا خیال ہے کہ بت پرستی  کی حوصلہ شکنی کیلیے انسانی شکلوں کی فنکارانہ عکاسی  پرپابندی ہونی چاہیے ،اگرچہ بہت سے مسلم ممالک میں عوامی مقامات پر مجسموں کی نمائش  کی جاتی ہے لیکن خلیج عرب میں  ایسے مجسمے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

الجزائر میں پیدا ہونے والے فرانسیسی مجسمہ ساز عدل عبدالصمد کا مجسمہ 2006 کے ورلڈ کپ فائنل میں اضافی وقت کے دوران اس لمحے کی عکاسی کرتا ہے جب زیدان نے اٹلی کے مارکو ماترازی کو سر سے ٹکر ماری تھی۔ زیدان کو اس فعل کے ارتکاب کے بعد میدان سے باہر بھیج دیا گیا  تھا اور اٹلی نے فرانس کو پنالٹی پر ہرا دیا۔

المیاسہ نے میڈیا کو بتایا کہ کام کی نمائش کا مقصد کھلاڑیوں میں  تناؤ اور دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے کی اہمیت کے بارے میں گفتگو کو فروغ دینا تھا۔زیدان قطر کے عظیم دوست ہیں اور وہ عرب دنیا کے لیے ایک بہترین رول ماڈل ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ آرٹ، کسی بھی دوسری چیز کی طرح ذائقے کا معاملہ ہے، ہمارا مقصد لوگوں کو بااختیار بنانا ہے۔

متعلقہ تحاریر