غریدہ فاروقی خود ہی وکیل،مدعی اور منصف بن گئیں،شہباز گل کو مجرم قرار دیدیا

اینکر پرسن نے شہباز گل کی اسپتال منتقلی کی وڈیو دیکھ کر انہیں جھوٹا اور دھوکے باز کہہ دیا۔ سینئر صحافیوں نے خاتون کو اپنی اداؤں پر غور کامشورہ دیا تو موصوفہ  نے سینئر اینکرپرسن اجمل جامی پر بھی چڑھائی کردی۔

اینکرپرسن غریدہ فاروقی سیاست اور صحافت کا فرق بھول گئیں۔خود ہی وکیل، مدعی اور منصف بن گئیں۔لائیو ٹالک شو میں ملزم شہباز گِل کومجرم قرار دے دیا اور ان کی اسپتال منتقلی کی وڈیو دیکھ کر انہیں جھوٹا اور دھوکے باز کہہ دیا۔

سینئر صحافیوں نے اینکر پرسن کو اپنی اداؤں پر غور کامشورہ دیا تو موصوفہ  نے سینئر اینکرپرسن پر بھی چڑھائی کردی۔

یہ بھی پڑھیے

مر جاؤں گا چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا، عمران خان کا انتہائی جارحانہ خطاب

نواز شریف واپس آرہے ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ ادارے کتنے نیوٹرل ہوئے ہیں، جاوید لطیف

نیوز ون پر پروگرام جی فار غریدہ کی میزبانی کرنے والے غریدہ فاروقی نے لائیو پروگرام کے دوران چیئرمین تحریک انصاف عمران خان  پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جیل حکام کو شہباز گل کی اسلام آباد پولیس کو حوالگی سے روکا ہے۔پروگرام میں شریک تحریک انصاف کے  سینیٹر سیف اللہ ابڑو   نے اینکر سے عمران خان کے احکامات کے تحریری ثبوت مانگے تو خاتون نے کہا کہ میرے ذرائع کے مطابق  زبانی احکاما ت دیے گئے ہیں۔

غریدہ فاروقی نے پروگرام میں شہباز گل کو ملزم کے بجائے مجرم قرار دیدیا جس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو  نے اعتراض اٹھایا کہ آپ ملزم کو مجرم کیسے قرار دے سکتی ہیں، آپ عدالت یا جج نہیں ہیں ۔ اس غریدہ فاروقی نے بحث شرو ع کردی۔انہوں نے کہا کہ میرے نذدیک یہ جرم ہے،اس شخص کی آواز وہاں موجود ہے ،اس نے اعتراف کرلیاہے ،افواج پاکستان میں جوبھی بغاوت کی بات کریگا وہ مجرم ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا آپ عدالت نہیں ہیں، آپ ملزم کو مجرم نہیں کہہ سکتیں، یہ آپ کا ڈومین نہیں ہے۔ اس بات پر غریدہ فاروقی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو دھمکاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ شہباز گل کا دفاع کررہے ہیں۔، میں نے شہباز گل  کی گفتگو سنی ہے، یہ انہی کی آواز ہے اورمیں سمجھتی ہوں کہ ایسی بات جو بھی کرے وہ مجرم ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان شہبازگل کے بیان کو بغاوت پراکسانے کا بیان قرار دے چکے ہیں۔

غریدہ فاروقی نے یکطرفہ الزامات لگانے کے بعد سیف اللہ ابڑو کو بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا جس پرانہون نے احتجاج بھی کیا اور خاتون  کو مشورہ دیا کہ اگر آپ کو سیاست کرنی ہے تو کوئی سیاسی جماعت جوائن کریں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

دوسری جانب غریدہ فاروقی نے شہبازگل کی اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقلی کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے اس پر انتہائی غیرذمےدارانہ تبصرہ کرڈالا۔غریدہ فاروقی نے لکھا کہ اللہ معاف کرے انسان جھوٹا بھی ہو اور دھوکے باز بھی۔۔۔ آکسیجن ماسک پر اتنے زور سے سانس کے جھٹکے نئی سائنس ہے،کسی نے شہبازگل کو بتایا نہیں کہ یہ وہ والا اسپتال نہیں جہاں خان صاحب نے منتقل کرنا تھا، سانس کی تکلیف یہاں بنا کر نہیں دکھانی، چند گھنٹوں میں میڈیکل رپورٹ بھی آ جائیگی۔

غریدہ فاروقی کے ٹوئٹ پر اجمل جامی نے ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چند سوالات کیے توخاتون ہتھے سے اکھڑ گئیں۔اجمل جامی نے لکھا کہ محترمہ! قانون، آئین یا بنیادی انسانی حقوق کا رتی برابر بھی ادراک ہے آپکو؟ کیا آپ میڈیکل اسپیشلسٹ ہیں؟ کیا آپ انکا چیک اپ کر چکی ہیں؟ کیا آپ پولی گراف ایگزامینر ہیں؟ آپکے پسندیدہ شاعر فراز نے کہا تھا”میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو، چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں“۔

غریدہ فاروقی نے اجمل جامی کے جواب پر  تلملاتے ہوئے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔انہوں نے لکھا کہ  محترم آپ اپنےکھوکھلےمنافقانہ بھاشن سےمیرے ٹویٹس سے دور ہی رہیے، مجھے معاف رکھیے۔ آپ میرے خلاف کس کس غلیظ کیمپین میں شامل نہیں رہے،آج برائےمہربانی اپنےسیاسی مفادات اور  پوائنٹ اسکورنگ کیلئے مجھےبھاشن سےدور رکھیے۔آپ پی  ٹی آئی کو اپنی یہ ٹویٹ بھیج بھیج کر داد وصول کرتے رہیں۔ حاضری لگ گئی۔شکریہ۔

اجمل جامی نے لکھا کہ جی ہاں! گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا واقعہ پیش آیا تو خاکسار نے آپکی عزت اور ذاتی تعلق کو ملحوظ خاطر رکھا، اب بتاؤں کہ کس کس کو آپ کے کہنے پر گزارش کی کہ یوں نہ کیجیے انکا موقف آنے دیجیئے؟ آپ خود نام لیجیے! افسوس کہ خاکسار اس قدر کبھی ذاتی نہ ہوا آج مجبوراً یوں جواب دینا پڑا۔

غریدہ فاروقی کی تلخ روئی کے باجود اجمل جامی نے ٹوئٹر پر غریدہ فاروقی کیخلاف ٹرولنگ کی شدید مذمت کی۔انہوں نےلکھاکہ محترمہ غریدہ فاروقی کے خلاف جاری غلیظ اور مکروہ ٹرینڈ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے، گالم گلوچ اور مذموم ٹرینڈز اخلاقی و سیاسی گراوٹ کا ثبوت ہیں۔ اس پستی کے ذمے دار دار یقیناً”راہ نما” اور”راہبر“ہی ہوا کرتے ہیں۔ خدارا پاگل پن کو لگام دیجئے اور اختلاف رائے کیساتھ جینا سیکھئے۔

سینئر صحافیوں مبشر زیدی،فیض اللہ خان اور فیصل حسین  نے خاتون اینکر کے طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنای ہے۔

متعلقہ تحاریر