اسرائیل کے جنوبی لبنان اور غزہ میں فضائی حملے، مغربی کنارے میں 2 یہودی خواتین قتل

صہیونی فضائیہ نے غزہ میں گھروں، رہائشی عمارتوں اور بچوں کے اسپتال کو نشانہ بنایا، مغربی کنارے میں کار سواروں کی فائرنگ سے ایک یہود خاتون زخمی بھی ہوئی، مسجد اقصیٰ میں ہزاروں مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی، برطانیہ کا کشیدگی کے خاتمے پر زور

اسرائیلی پولیس کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی اور نمازیوں پر تشدد کے جواب میں جنوبی لبنان اور غزہ سے کیے گئے حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی نے گزشتہ رات غزہ اور جنوبی لبنان پر فضائی حملے کیے۔

دوسری جانب مغربی کنارے میں وادی اردن کے قریبی قصبے حمارا میں کار سوار افراد کی فائرنگ سے دو 20سالہ  یہودی آبادکار خواتین  ہلاک اور45 سالہ خاتون زخمی ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیے

8 بھارتی ریاستوں میں مسلم کش فسادات، بہار میں مدرسہ عزیزیہ نذرآتش

امریکا میں پہلی بار سابق صدر پر فرد جرم عائد، ڈونلڈ ٹرمپ سے گرفتاری دینے کامطالبہ

مسجد اقصیٰ میں کئی روز سے جاری کشیدگی ، صہیونی فوج کی جانب سے خواتین سمیت مسلمان نمازیوں پر بہیمانہ تشدد اور 400 سے زائد نمازیوں کی گرفتاری کےبعد حماس نے گزشتہ روز جنوبی لبنان اور غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسرائیلیوں میں خوف  وہراس پھیل گیا۔

قابض اسرائیلی فوج نے راکٹ حملوں کے جواب میں صبح 4 بجے جنوبی لبنان میں حماس کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا اعلان کیا۔اس سے قبل صہیونی فوج نے غزہ میں شدیدبمباری کے دوران گھروں،  رہائشی عمارتوں اور بچوں کو اسپتال کو نشانہ بنایا۔تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب آج جمعے کےدن مغربی کنارے میں وادی اردن کے قریبی قصبے حمارا میں کارسوار مسلح افراد کے حملے میں 2 بیس سالہ خواتین ہلاک اور ایک 45 سالہ یہودی آبادکار خاتون زخمی ہوگئی۔

واقعے کے بعد اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں ناکہ بندی کردی اور اسرائیلی پولیس کے سربراہ اسرائیلی شہریوں کو اپنے ساتھ اسلحہ لیکر گھر سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔حماس نے یہود آباد کاروں کےقتل کا خیر مقدم کیا ہے اور حملہ آوروں کو مبارکباد پیش کی ہے۔یہودی آبادکاروں پر حملے کو مسجد اقصیٰ پر صہیونی دہشت گردی کا ردعمل قرار دیا جارہا ہے۔

 دریں اثنا مسجد اقصیٰ میں ہزاروں افراد نے رمضان المبارک کے تیسرے جمعۃ المبارک کی نماز ادا کی۔اس موقع پر نمازیوں کی بڑی تعداد اسرائیلی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتےہوئے مسجد کے مرکزی ہال میں داخل ہوگئی۔

دوسری جانب غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائیہ کی بمباری کے بعد برطانیہ نے فریقین سے تشدد کی روک تھام کامطالبہ کیا ہے۔برطانوی وزیرخارجہ  جیمز کلیورلی نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام فریقین خطے میں کشیدگی کا خاتمہ یقینی بنائیں۔

برطانوی وزیرخارجہ نے غزہ اور جنوبی لبنان سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کی اور مسجد اقصیٰ میں  ماہ رمضان میں پرتشدد کارروائیوں پر اسرائیلی پولیس چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

متعلقہ تحاریر