بھارت دہشتگردی سے پاک ماحول میں پاکستان سے معمول کےتعلقات چاہتا ہے، مودی
دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمے داری اسلام آباد پر ہے، بھارتی وزیر اعظم کی جی 7 سربراہ اجلاس میں روانگی سے قبل جاپانی میڈیا سے گفتگو

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ معمول کے ہمسایوں جیسےتعلقات چاہتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار نریندر مودی نےجمعے کو ہیروشیما میں جی 7 سربراہی اجلاس کے لیے جاپان روانگی سے قبل کیا۔تاہم انہوں نے اس معاملے پر بھارت کے دیرینہ موقف کو دہراتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمے داری اسلام آباد پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چین کا جی 20 کانفرنس شریک نہ ہونے کا فیصلہ؛ سعودیہ و ترکیہ کا عدم شرکت کا عندیہ
مودی کی سیاست مسترد، کرناٹک کا انتخابی معرکہ کانگریس نے جیت لیا
پاکستان نے بھارتی موقف کو مسترد کر دیا ہے اور اس ماہ کے شروع میں بھارت سے کہا تھا کہ سفارتی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دہشت گردی کوبطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
مسٹر مودی نے جاپانی اشاعت نکی ایشیا سے بات کرتے ہوئے مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ معمول کے دو طرفہ تعلقات کے لیے سرحدی علاقوں میں امن اور سکون ضروری ہے۔
انہوں نےمزید کہا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے اور بھارت چین تعلقات کی مستقبل کی کامیابی صرف باہمی احترام، باہمی حساسیت اور باہمی مفادات پر مبنی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ تعلقات معمول پر لانے سے وسیع تر خطے اور دنیا کو فائدہ ہوگا۔
بھارتی معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کہ ان کا ملک دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک رہا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ملک 2014 میں 10ویں بڑی معیشت بننے کے بعد اب بھارت عالمی سطح پر پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد اگلے 25 سالوں میں ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنا ہے۔روس،یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یوکرین تنازعہ پر ہندوستان کا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے، بھارت امن کے ساتھ کھڑا ہے اور ثابت قدم رہے گا،ہم ان لوگوں کی مدد کے لیے پرعزم ہیں جنہیں اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں ہم روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھتے ہیں۔









