ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ، شرائط نہ مانی تو سنگین نتائج ہوں گے
اسرائیل نے جنگ بندی کے بدلے حماس سے ہتھیار ڈالنے اور یرغمالیوں کی رہائی کی شرط رکھ دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ شرائط کو تسلیم نہ کیا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر حماس کے لیے بات چیت کے دروازے بند ہو سکتے ہیں اور اس کے بعد کوئی نرم رویہ نہیں اپنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ہر شخص یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے میری شرائط قبول کر لی ہیں، اب حماس کی باری ہے کہ وہ ان شرائط کو تسلیم کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی آخری وارننگ ہے اور اگر حماس نے اس موقع کو ضائع کیا تو اس کے بعد کوئی نرم وارننگ نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی حماس کو سخت پیغامات دیے تھے اور گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ حماس سے سنجیدہ بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم اب امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اقدامات نہ کیے، تو واشنگٹن سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیلی یرغمالیوں کی مشروط رہائی پر آمادگی ظاہر کر دی تھی، مگر اسرائیل نے انکار کر دیا تھا۔
ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر حماس نے امریکی شرائط کو مسترد کیا تو کیا کارروائی کی جائے گی؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا اثر پورے خطے میں پڑ سکتا ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی صرف اسی صورت ممکن ہے جب حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور ہتھیار ڈال دے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق اگر حماس یہ شرائط مان لے تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کی شرط کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی، اور صرف اس صورت میں یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا جب اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے اور حملے بند کرے۔
ادھر غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری نہ تھم سکی۔ قابض فوج نے ایک اور بلند عمارت کو نشانہ بنایا جس کے بعد تین دن میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں مزید 65 فلسطینی شہید ہوگئے، یوں مجموعی ہلاکتیں 64 ہزار 368 تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 62 ہزار 776 بتائی جا رہی ہے۔









