خواتین آرٹ اور میڈیا کے شعبوں میں بھی آگے

فرانس میں قائم دنیا کے سب سے بڑے میوزیم ’لوور‘ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ بی بی سی نے بھی خاتون کو انٹرنیشنل سروسز کا سینیئر کنٹرولر تعینات کردیا ہے۔

آرٹ اور میڈیا کے شعبوں میں بھی خواتین اپنا لوہا منوارہی ہیں۔ فرانس میں قائم دنیا کے سب سے بڑے میوزیم ’لوور‘ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی خاتون کو انٹرنیشنل سروسز کا سینیئر کنٹرولر تعینات کردیا ہے۔

آرٹ کے ذریعے معاشرتی مسائل کو فروغ دینے کے لیے مشہور خاتون لارنس ڈیس کارس کو فرانس کے لوور میوزیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ 54 سالہ لارنس ڈیس کارس کو بدھ کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے میوزیم کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

لارنس ڈیس کارس مصوری کی ماہر ہیں اور فرانس کے مصنفین کے ایک عظیم خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ جلد ہی اس میوزیم کی ذمہ داری سنبھال لیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا غزہ تنازعے کی تحقیقات کا حکم

اس قدیم میوزیم کا آغاز 288 سال قبل ہوا تھا۔ کرونا کی وباء نے بین الاقوامی سیاحت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وباء کی زد میں آنے سے قبل لوور میوزیم میں سالانہ تقریباً ایک کروڑ سیاح آتے تھے۔

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے لی لیان لینڈور کو انٹرنیشنل سروس کا سینیئر کنٹرولر مقرر کردیا ہے۔ لی لیان لینڈور چینل 24 نیوز سے بی بی سی میں شامل ہوئی ہیں جہاں وہ بین الاقوامی خبروں کی سربراہ تھیں۔

بی بی سی کی جانب سے ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ لی لیان لینڈور بی بی سی ورلڈ سروس کی ڈائریکٹر ہوں گی۔

لی لیان لینڈور کو 5 زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ وہ ریڈیو، ٹی وی اور ڈجیٹل میڈیا پر انگریزی سمیت دیگر زبانوں میں کام کرتی رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے بی بی سی میں کام کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر