امریکا نے ایمن الظواہری پر حملے کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کی، چینی اخبار

یہ آپریشن ممکنہ طور پر 2003 کے معاہدے کی شرائط کے مطابق کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان نے افغانستان میں امریکی فوجی پروازوں کیلیے فضائی راہداری فراہم کی تھی،سیکیورٹی تجزیہ کار

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والے امریکی ڈرون نے اپنے مشن کی انجام دہی کے لیے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کیا۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ میں شائع ہونےو الے پاکستانی صحافی  ٹام حسین کے مضمون میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ  اسلام آباد  یقینی طور پر واشنگٹن کو فضائی حدود کے استعمال کی اجازت اور ظواہری کے ٹھکانے کی تصدیق کیلیے انسانی انٹیلی جنس فراہم کر سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

نینسی پیلوسی کی تائیوان آمد پر چائنا اور امریکا میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی

سنگاپور میں ایس راجا رتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو عبدالباسط نے کہا کہ امریکی ڈرون یقینی طور پر بلوچستان سے  پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا اور پھر افغانستان گیا۔

”یہ آپریشن ممکنہ طور پر 2003 کے معاہدے کی شرائط کے مطابق کیا گیا“

انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن ممکنہ طور پر 2003 کے معاہدے کی شرائط کے مطابق کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان نے افغانستان میں امریکی فوجی پروازوں کے لیے فضائی راہداری فراہم کی تھی ۔

عبدالباسط نے کہاکہ گزشتہ سال افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد 2023 کے معاہدے کی میعاد ختم ہوگئی تھی لیکن امریکا کیلیے فضائی حدود کھلی رکھنے کیلیے اسے برقراررکھا گیا ۔

 ملٹری آپریشنز کے تجزیہ کار جوناتھن شروڈن بھی  اس بات سے متفق ہیں کہ امریکی ڈرون نے پاکستانی فضائی حدود استعمال کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ  ظواہری کو نشانہ بنانے والاایم کیو9 ساختہ امریکی ڈرون   غالباً خلیجی عرب ملک میں واقع امریکی ایئربیس سے اڑان بھرنےکے بعد بحیرہ عرب پر سے پرواز کرتے ہوئے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہواہوگا۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے آپریشنل تفصیلات کے بارے میں کسی تصدیق کی عدم موجودگی پرعبدالباسط اور کچھ دیگر تجزیہ کاروں نے کہاکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا آئی ایس آئی  نے ظواہری کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے  بھی اپنے بیان میں القاعدہ کے سربراہ کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے  صرف”اہم اتحادیوں اور شراکت داروں“کے تعاون کا حوالہ دیاتاہم افغانستان میں آئی ایس آئی کے وسیع نیٹ ورک کو دیکھتے ہوئے، خاص طور پر طالبان کے اندر اور اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر کہ گزشتہ اگست میں فوجی انخلاکے بعد سے افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس وسائل کافی حد تک ختم ہو چکے ہیں، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی شمولیت کا امکان زیادہ ہے۔

جوناتھن شروڈن کہتے ہیں کہ یہ کلی طور پر ممکن ہے اور مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوگی  کیونکہ پاکستان طالبان کی واپسی کے بعد  امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ٹھیک کرنے کی راہیں  تلاش  تلاش کر رہا ہے۔

جنرل باجوہ کی امریکی حکومت کے ساتھ معیشت پر گفتگو اصل خبر نہیں ہے ، اصل خبر یہ ہے کہ بدلے میں کیا چیز دی گئی؟

 تجزیہ کاروں نے گزشتہ ہفتے ایک ٹیلی فون کال کی طرف بھی  اشارہ کیا  ہےجس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے بات کی تھی۔

پاک فوج کے مطابق جنرل باجوہ نےفون کال پر وینڈی شرمین  سےدرخواست کی تھی کہ امریکا  اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان  کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلیے عالمی مالیاتی فنڈزسے  مالی امداد کی قسط کا فوری اجرا کروائے ۔

پاکستان کے معاملات پر فوج کے دیرینہ تسلط کے باوجود جنرل باجوہ اور وینڈی شرمین کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو پاکستانی سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے یکساں طور پر انتہائی غیر معمولی دیکھا تھا  اور اب اسے ایمن الظواہری پرہونے والے  ڈرون حملے کے ممکنہ پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں قائم اسلامک تھیولوجی آف کاؤنٹر ٹیررازم میں ساؤتھ ایشیا ٹیرر ازم ڈیسک کے سربراہ فاران جیفری کا اس  حوالے سے کہنا ہے کہ    جنرل باجوہ کی امریکی حکومت کے ساتھ معیشت پر گفتگو اصل خبر نہیں ہے ، اصل خبر یہ ہے کہ بدلے میں کیا چیز دی گئی؟

ظواہری کو سراج الدین حقانی کے قریبی دوست کے گھر نشانہ بنایا گیا

ظواہری کو کابل میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ طالبان کی حکومت کے وزیر داخلہ اور  حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے قریبی ساتھی کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔جس محلے میں یہ گھر واقع ہے وہ طالبان قیادت کی بہت سی شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کو تاریخی طور پر پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے قریب دیکھا جاتا رہا ہے ۔ 2011 میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے اس وقت کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نےاسے” آئی ایس آئی کا ایک حقیقی بازو“ قرار دیا تھا۔

تاہم پاکستان کی فوج اور طالبان ) بشمول حقانی ( کے درمیان تعلقات ایک سال قبل افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے نمایاں طور پر خراب ہو چکے ہیں۔اسلام آباد اس بات پر ناراض ہے کہ طالبان حکومت نے ان 3000 سے 5000 پاکستانی طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی نہیں کی جن کے بارے میں اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ وہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف سرحد پار سے حملوں میں شدت پیدا کردی۔طالبان حکومت کے بار بار مداخلت کرنے سے انکار کے بعد پاکستان کی فوج نے اپریل میں افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے کیمپوں پر حملے کے لیے چینی ساختہ ونگ لونگ II ڈرون کا استعمال کیا۔

طالبان نے بعد ازاں ٹی ٹی پی کو ایک کھلی جنگ بندی پر رضامند کرنے اور سراج الدین حقانی کی ثالثی میں پاکستانی نمائندوں کو مذاکرات میں شامل کرنے پر آمادہ کیا۔مذاکرات کا تازہ ترین دور جس میں پاکستانی علما  کے ایک وفد  نے شرکت کی تھی گزشتہ ہفتے ناکامی پر ختم ہوا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مئی کے اوائل میں واشنگٹن میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اورقومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سمیت اعلیٰ امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت  کےحوالے سے امکان ہے کہ فریقین نے انسداد دہشت گردی پر اپنے خفیہ تعاون کو بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر