ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں ایک اور ڈرون حملہ

طالبان ذرائع کے مطابق کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے چند دن بعد، ایک اور ڈرون نے افغانستان کے صوبہ غزنی کے علاقے اندارو میں میزائل داغا ہے۔

کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے چند دن بعد ایک اور ڈرون نے افغانستان کے صوبہ غزنی کے علاقے اندارو میں میزائل داغا اور ایسا لگتا ہے یہ حملہ بھی ہائی ویلیو ٹارگٹ تھا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا کو ڈرون اٹیکس کے لیے سرزمین کو فراہم کررہا ہے۔

معروف انویسٹی گیٹیو جرنلسٹ مشتاق یوسفزئی نے اپنے ذرائع سے ڈرون حملے سے متعلق خبر دی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سینئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے لکھا ہے کہ ” افغانستان میں طالبان ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کی شام افغانستان کے صوبہ غزنی کے علاقے اندارو میں ایک ڈرون نے میزائل داغے اور ایک ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری، 6 بچوں سمیت 32 افراد شہید

بھارتی فوج نے 5 اگست 2019 سے اب تک 662 کشمیری شہید کیے

صحافی مشتاق یوسفزئی نے مزید لکھا ہے کہ "طالبان نے ہدف کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غیر ملکی تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔”

امریکی ایجنسی سی آئی اے ہائی ویلیو ٹارگٹ کی اصطلاح القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور دیگر القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداران کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

حملے کے تناظر میں میڈیا رپورٹس میں لکھا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ طالبان کو اس حملے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔”

دفاعی تجزیہ کار سمیرا خان نے بھی سینئر صحافی مشتاق یوسفزئی سے ملتا جلتا پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر جاری کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری امریکہ کے فضائی حملے میں مارے گئے اور کہا تھا کہ "آج انصاف کا عمل پورا ہوگیا۔”

القاعدہ سربراہ الظواہری کا شمار دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں ہوتا تھا۔ امریکی سی آئی اے نے انہیں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا، ہفتے کے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکہ کے ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ "وہ دوبارہ کبھی افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا تھا کہ ایمن ظواہری کو کابل میں ایک گھر کی بالکونی میں ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

یہ حملہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے کیا تھا اور اسے فضائیہ کے ڈرون نے انجام دیا تھا۔ اہلکار نے دعویٰ کیا کہ حملے میں الظواہری واحد شخص تھا جو ہلاک ہوا تھا اور ان کے خاندان کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا تھا۔

متعلقہ تحاریر