طلاقِ حسن تین طلاقوں کی طرح غلط نہیں ہے، بھارتی سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نےقرار دیا ہے کہ تین ماہ کے عرصے میں ہر ماہ ایک مرتبہ دی جانےوالی طلاق حسن کوایک نشست میں دی جانے والی تین طلاق جیسی نہیں ہےجسے غیرقانونی قرار دیاگیا ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بادی النظر میں یہ اتنی نامناسب بھی نہیں ہے کیونکہ عورت کے پاس خلع کا اختیار بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بلقیس بانو ریپ، قتل کیس کے11 سزا یافتہ مجرموں کو حکومتی معافی مل گئی
بھارتی فوج نے 5 اگست 2019 سے اب تک 662 کشمیری شہید کیے
یہ ریمارکس جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم ایم سندریش پر مشتمل دو رکنی بینچ نے غازی آباد کی مسلمان خاتون کی جانب سے طلاق حسن کیخلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت میں منگل کو جاری کیے ہیں۔
طلاقِ حسن یا طلاق مسنونہ میں 3 ماہ کے دوران ہر ایک مرتبہ طلاق دی جاتی ہے اور اگر اس مدت میں دوبارہ صحبت اختیار نہ کی جائے تو تیسری نشست میں دی گئی طلاق کے بعد باضابطہ طلاق ہوجاتی ہے۔
درخواست گزار خاتون کی پیروی کرنے والی سینئر وکیل پنکی آنند نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے ایک نشست میں دی گئی تین طلاقوں کو غیرآئینی قرار دیا ہے لیکن طلاق حسنہ کا جائزہ نہیں لیا گیا جو اب لینے کی ضرورت ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ طلاق حسنہ اور یکطرفہ ماورائے عدالت طلاق کی دوسری شکلیں نہ تو انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے جدید اصولوں سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اسلامی عقیدے کا لازمی حصہ ہیں۔
وکیل نے دلائل میں مزید کہا کہ بہت سے اسلامی ممالک نے اس طرح کے عمل کو محدود کر دیا ہے جبکہ یہ عام طور پر ہندوستانی معاشرے کو پریشان کر رہا ہے تاہم بینچ نے کہا کہ خواتین کے پاس خلع کا اختیار ہے ، اگر شوہر اور بیوی ایک ساتھ رہنا نہیں چاہتے ہیں تو باہمی رضامندی سے طلاق دی جاسکتی ہے۔
بعدازا عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا وہ رضامندی سے طلاق لینے کے لیے تیار ہے؟عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ہمارےعلم میں آیا ہے کہ مدعا علیہ(شوہر) نے شادی کی ناقابل تلافی ٹوٹ پھوٹ کاالزام عائد کیا ہے لہٰذا کیا درخواست گزار مہر سے کچھ زائد رقم ادا کرکے باہمی رضامندی سے بذریعہ طلاق تصفیے پر رضامند ہوجائیں گی؟
عدالت نے حکم میں کہا ہے کہ درخواست گزار کے نوٹس میں لایا گیا ہے کہ عدالت کی مداخلت کے بغیر بھی طلاق مبارت کے ذریعے شادی کا خاتمہ ممکن ہے۔( طلاقِ مبارات سے مراد وہ طلاق ہے جو اس وقت دی جائے جب زوجہ اپنے شوہر سے اس قدر نفرت کرے کہ اس بات پر راضی ہو جائے وہ کچھ رقم دے کر اپنے شوہر سے آزاد ہو جانا چاہتی ہے)۔
درخواست گزار نے اپنے وکیل کے توسط سے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے موقف اپنایا تھاکہ طلاق حسن اور یکطرفہ ماورائے عدالت طلاق کی دوسری شکلیں ستی (متروکہ ہندوانہ رسم)کی طرح ایک بری وبا ہے ۔









