غلام نبی آزاد کانگریس سے مستعفی، راہول گاندھی پر سنگین الزامات

راہول گاندھی نے پارٹی میں مکالمے اور مشاورت کی روایت کو تباہ کردیا، وہ صرف غلام چاہتے ہیں، غلام نبی آزاد کا5 صفحات پر مشتمل استعفے میں سونیا گاندھی سے شکوہ: سینئر رہنما راجیہ سبھا کی نشست اور دلی کا بنگلہ چاہتے تھے،کانگریس

بھارت نواز کشمیری رہنما غلام نبی آزاد  نے بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کو خیرباد کہتے ہوئے پارٹی کےسابق  صدر راہول گاندگی پر سنگین  الزامات عائد کردیے۔

غلام نبی آزاد نے کانگریس  کی صدر سونیا گاندھی کو5 صفحات پر مشتمل مکتوب کی شکل میں اپنا استعفیٰ ارسال کیا ہے۔ انہوں نے اپنے استعفےمیں پارٹی کے سابق صدر راہول گاندھی کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نریندر مودی کے ساتھی گوتم اڈانی کی این ڈی ٹی وی پر مکمل کنٹرول کی کوششیں

مودی کی مقبوضہ کشمیر میں عارضی مقیم بھارتی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت

سونیا گاندھی کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں  آزاد نے لکھا کہ ’’سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی، سنجے گاندھی اور آپ کے شوہر اور ملک کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ میرے بہت قریبی تعلقات رہے ہیں۔ آپ کی قیادت کا طریقہ بھی کافی سلجھا ہوا اور بہترین تھا اسی لئے میں آپ کے کافی قریب رہا ۔ آپ کی قیادت میں پارٹی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھی لیکن بدقسمتی سے جب سے پارٹی میں  راہول گاندھی کی انٹری ہوئی اور خاص طور پر2013کے بعد جب آپ نے ان کو پارٹی کا نائب صدر مقرر کیا تو انہوں نے پارٹی میں مشاورت اورمکالمے کی روایت کو ہی تباہ کردیا۔“

غلام نبی آزاد نے لکھا کہ” راہول گاندھی نے  پارٹی پر قبضہ کرتے ہی تمام سینئر اور تجربہ کار قیادت کو کنارے لگانا شروع کردیا اور ناتجربہ کاررہنماان کی قربت کا فائدہ اٹھا کر پارٹی کے تمام معاملات دیکھنے لگے۔ “

انہوں نے مزید کہا کہ” جس شخص نے ریموٹ کنٹرول ماڈل کے ذریعے یوپی اے حکومت کے دوران جمہوری اداروں کو تباہ کردیاتھا، وہی شخص اب اسی ماڈل پر چلتے ہوئے کانگریس کی تنظیم کو برباد کررہا ہے۔  میں نےیہاں تک سنا ہے کہ حالات اتنے خراب ہیں کہ ان کے سیکیورٹی اہلکار اور پی اے تک اہم فیصلوں میں شامل رہتے ہیں۔ ان حالات میں میرا پارٹی میں رہنا مناسب نہیں تھا۔ “

انہوں نے مزید لکھا کہ” حالانکہ میں نے کئی مرتبہ آپ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے اب مجھے پارٹی سے استعفیٰ دینا پڑ رہا ہے۔“

 غلام نبی آزاد نے   بھارتی میڈیا سے گفتگو میں راہول گاندھی پر   سنگین الزامات عائدکرتے ہوئے کہا کہ  وہ صرف غلام چاہتے ہیں، کانگریس میں تقریباً 90 فیصد غیر کانگریسی ہیں، کچھ کو کالجوں سےا ٹھایا گیا ہے ۔ کچھ وزیراعلیٰ کے کلرک ہیں جنہیں عہدے دیے گئے ہیں ، میں ان لوگوں سے بحث نہیں کرسکتا جنہیں تاریخ کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔

غلام نبی آزادنے کہا کہ میں نے جی 23 سے پہلے ہی سونیا گاندھی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر ایک خط لکھا تھا۔ انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے مجھے کے سی وینوگوپال کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کو کہا۔ میں نے انہیں بتایا کہ جب میں جنرل سکریٹری تھا تو وہ اسکول میں تھے۔ پھر خاندان میں سے کسی نے کہا کہ  رندیپ سرجے والا سے بات کرو۔ میں نے ان سے کہا کہ  ویسے  جب میں جنرل سکریٹری تھا، رندیپ کے والد پی سی سی کا حصہ تھے، انہوں نے میرے ماتحت کام کیا ہے۔ میں اس کے بیٹے سے پارٹی کے بارے میں کیسے بات کر سکتا ہوں؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں راہول گاندھی جی؟

آزاد کا غصہ اور تلخی زیادہ راہل گاندھی پر ہے۔ کیا راہول گاندھی کو پارٹی صدر ہونا چاہیے؟ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو جو بھی پارٹی صدر بنے گا اسے اس کا غلام بننا پڑے گا اور اس کی فائلیں اٹھانا ہوں گی۔ ان سے پوچھیں کہ وہ پارٹی کو کتنا وقت دیتے ہیں؟ ان کے پاس پارٹی کے لیے وقت نہیں ہے اور میری ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہیں؟ جب ہم اس کی عمر کے تھے تب بھی ہم 20 گھنٹے سے زیادہ وقت دیتے تھے۔

غلام نبی آزادکو یہ یاد دلایا گیا کہ راہول گاندھی نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیتے وقت سینئرز پر ساتھ نہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ تو وہ   بھڑک اٹھے  اور کہا کہ”کیسا اور کس چیز کا تعاون؟ راہول نے مجھ سے کہا کہ  نے کہا تم نے چوکیدار چور ہے کیوں نہیں کہا؟ میں نے اسے کہا کہ یہ تمہاری زبان ہو سکتی ہے، میری نہیں۔ یہاں تک کہ اندرا گاندھی نے بھی ہمیں اٹل بہاری واجپائی سے یہ کہنے کو کبھی نہیں کہا۔ راجیو گاندھی نے ہمیں اپوزیشن لیڈروں کے گھر جانے کو کہا۔ ہم اس طرح بات نہیں کر سکتے۔ ہماری پرورش اس طرح نہیں ہوئی ہے۔“

کانگریس نے تجربہ کار لیڈر پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف اس لیے بغاوت   کی  ہے  کہ وہ راجیہ سبھا کی نشست چاہتے تھے اور  دہلی کے قلب میں واقع ساؤتھ ایونیو میں واقع بنگلے میں اپنی رہائش  برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

بھارتی میڈیا  کے مطابق  غلام نبی آزاد اپنی پارٹی قائم کرنے جارہے ہیں ، وہ 4 ستمبر کو جموں پہنچیں گے اور اگلے روز شہر میں ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا جائے گا جس میں وہ اپنی پارٹی کا اعلان کریں گے۔

متعلقہ تحاریر