افغان طالبان کا اسرائیل کیساتھ تعلقات کے قیام کا عندیہ
ہر کسی کے ساتھ بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل کا حل نکالنا ہماری پالیسی ہے، جس کوبھی ہم سے کوئی مسئلہ ہے اور وہ اسے حل کرنا چاہتا ہے تو ہم بالکل تیار ہیں،ترجمان سیاسی دفتر محمد نعیم کی عرب ٹی وی سے گفتگو

افغان طالبان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کا عندیہ دے دیا۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ ہر کسی کے ساتھ بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل کا حل نکالنا ہماری پالیسی ہے،جس کوبھی ہم سے کوئی مسئلہ ہے اور وہ اسے حل کرنا چاہتا ہے تو ہم بالکل تیار ہیں۔
عرب ٹی وی کے اینکر نے طالبان ترجمان سے سوال کیا کہ بلاتخصیص ہر کسی سے بات چیت کا مطلب ہے کہ آپ اسرائیل سے بھی بات چیت کیلیے تیار ہیں؟اس کے جواب میں ترجمان نے کہاکہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کیا مسئلہ ہے؟ اگلی چیز جو کوئی پوچھے گا وہ یہ ہے کہ کیا ہم مریخ کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہیں؟
یہ بھی پڑھیے
افغانستان اور روس میں تیل کی خریداری کا معاہدہ جلد طے پانے کا امکان
امریکی ڈرون حملہ، افغان وزیر دفاع نے پاکستان پر سنگین نوعیت کے الزامات لگا دیئے
اینکر نے کہا کہ اسرائیل وہ ملک ہے جس کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکا کے دل کا راستہ اسرائیل سے ہوکر گزرتا ہے۔
طالبان ترجمان نے کہا کہ اگر آپ کو کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو اسے حل کرسکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دوسروں کو ہم سے جو مسائل ہیں انہیں حل کریں۔ ہمیں وہاں کس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟
In Al-Jazeera Interview, Taliban Spokesman Dr. Muhammad Naeem Wardak Refuses to Rule Out Relations with Israel: What Problem Do We Have with Israel? It Is Strange to Ask Me about Issues That Have Nothing to Do with Us #Taliban #Israel #Afghanistan @IeaOffice pic.twitter.com/wvkHsQ6pZW
— MEMRI (@MEMRIReports) September 1, 2022
اینکر نے سوال کیا کہ تو کیااب آپ کو اسرائیل سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ترجمان نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ ، یہ آپ کا میڈیا ہے،آپ دنیا کے کونے سے چیزیں لاتے ہیں اور اسے یہاں ہماری حقیقت کے آمیزے میں ڈالتے ہیں، یہ بہت عجیب ہے۔
اینکر نے کہا کہ یہ اتنے دور کی بات نہیں ہے، اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جسے بیشتر ممالک تسلیم کرتے ہیں۔ کیا آپ اسرئیل کو تسلیم کریں گے اور اس کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے، کیونکہ آپ 20 سال پہلے کے مقابلے بدل چکے ہیں؟ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہمارےدروازے سب کیلیے کھلے ہیں؟
طالبان ترجمان نے کہا کہ میں نے بھی یہی کہا، لیکن ہم ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جن کو ہمارے ساتھ مسئلہ ہے۔ اگر کسی ملک یا شخص کو ہم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو کیا آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کے ساتھ مسائل حل کرنے کو تیار ہیں جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ پوچھنا غیر معقول ہے۔









