بھارتی ریاست بہار میں مسلمان ماں 8 سالہ بیٹے کی رہائی کیلیے دربدر
بہار پولیس نے 8ستمبر کو پٹنہ کے نواحی گاؤں برہڑیا میں مسجد کے باہر ہونے والے فساد کے الزام میں نماز کیلیے جانے والے بچے اور اسکے دادا کو بھی گرفتار کرلیا

بھارتی پولیس نے مسلم دشمنی کی نئی مثال قائم کردی۔ ریاست بہار میں پولیس نے مسجد کے باہر سے گزرنے والے ہندوؤں کے جلوس پر حملے کے الزام میں 8 سالہ مسلمان بچے کو اس کے 72 سالہ داد ا سمیت گرفتار کرلیا۔
8سالہ بچے کی ماں شینا خاتون 9 ستمبر سے اپنے بیٹے کی رہائی کیلیےکوٹ ،کچہری،وکلااور سماجی رہنماؤں کے ہاں چکر لگانے پر مجبور ہے۔اس سے ایک روز قبل بہار پولیس نےریاستی دارالحکومت پٹنہ سے ڈھائی سو کلومیٹر دور واقع برہڑیا کےعلاقے میں میں مہاویر اکھاڑا ریلی کےدوران ہونے والے ہندو مسلم فساد کے بعد کمسن بچے کو گرفتار کیا تھا۔
بہار پولیس نے بچے کے علاوہ 35 افرادکو تعزیرات ہند کی سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جن میں دنگے،جان لیوا ہتھیاروں کی مدد سےفسا د پھیلانے،اقدام قتل،حملے،مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے،شدید زخمی کرنے، نقض امن اور مجرمانہ سازش کو ہوا دینی کی دفعات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ملازمت کھونے کا خوف، بھارتی مسلمان اپنے مسلم نام تبدیل کرنے لگے
بھارتی مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن، ہندوؤں کو مسجد میں پوچا پاٹ کی اجازت مل گئی
بھارتی میڈیا کے مطابق گرام پنچایت کی جانب سے جاری کردہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کے مطابق بچے کی عمر 8 سال ہے تاہم بہار پولیس نے ایف آئی آر میں بچے کی عمر 13 سال درج کی ہے۔
سیوان کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امیت کمار پانڈے کا کہنا ہے کہ حکام نے بچے کی عمر 13 سال گرفتاری کے وقت اس کے بیان کومدنظر رکھ کر درج کی ہے۔تعزیرات ہند کی دفعہ 83 میں انسان کو بچہ شمار کرنے کیلیے عمر کی حد 7 سے 12 سال کے درمیان مقررہے،قانون کے مطابق کسی بچے کا کوئی اقدام اس وقت تک جرم تصور نہیں ہوگا جب تک وہ اپنے طرز عمل کی نوعیت اور نتائج کافیصلہ کرنے کیلیے درکار کافی سمجھ بوکھ حاصل نہ کرلے۔

بچے کی غصے سے بھری میں کہتی ہے کہ” ہرکوئی ہم سے اس کی عمر کا ثبوت مانگ رہا ہے،کوئی پولیس سے کیوں نہیں پوچھ رہا کہ انہوں نے کس بنیاد پر فیصلہ کیا کہ اسکی عمر13 سال ہے۔ “
اہل خانہ کا الزام ہے کہ نابالغ بچے کو دو راتوں تک تھانے میں رکھا گیا۔ جووینائل جسٹس ایکٹ کے مطابق نابالغوں کو فوری طور پر آبزرویشنل ہوم میں لے جانا چاہیے۔ تاہم امیت کمار پانڈے کا اصرار ہے کہ مذکورہ قانون کی پیروی کرتے ہوئے بچے کو 24 گھنٹے کے اندر جووینائل جسٹس سسٹم کے بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا اور اب وہ سیوان کے جووینائل جسٹس ہوم میں موجود ہے۔
لڑکے کے ساتھ اسکے70 سالہ دادا کو بھی گرفتارکیاگیا تھا۔بچے کے 24 سالہ کزن محمد آفتاب نے بتایا کہ دونوں دادا اور پوتا مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے جب مہاویر اکھاڑہ کا جلوس باہر آکر رکا، اس دوران وہ دونوں اپنی حفاظت کے خوف سے وہ مسجد کے اندر ہی رہے۔مجسٹریٹ کے مطابق منگل تک اس کیس میں 20افرا دکو گرفتار کیا گیاتھاجبکہ واقعے کی ایف آئی آر میں نامزد 35میں 25افراد مسلمان جبکہ 10ہندو ہیں۔
اس کیس پر بڑے پیمانے پر تنقید ہورہی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ”نئےسیکولر چاچا“ نتیش کمار کے اصول کے تحت بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ پولیس فسادیوں کو پکڑنے کے بجائے مسلمان بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ بچے کی گرفتاری میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ ملنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پرتشدد واقعے کی 5وڈیوز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جھڑپیں جمعرات کی شام تقریباً 4.30 بجے برہڑیا کے علاقے پرانے بازار میں ہوئیں۔ زعفرانی رنگ کے لباس پہنے ہوئے مرد تلواروں اور لاٹھیوں کے ساتھ مہاویر اکھاڑہ کی ریلی میں مارچ کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ عصر کی نماز کے وقت یہ ریلی مدینہ مسجد کے باہر رک گئی جس کے بعد مسجد پر پتھراؤشروع ہوگیا۔
واقعے کی ویڈیوز میں ریلی کے شرکا کو مسجد پر پتھراؤ کرتے اور اس پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دیگر ویڈیوز میں مسلمان مردوں کو مسجد کی بالائی منزل سے پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنا دفاع کرنے کی کوشش کررہے تھے جبکہ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا تھا۔اہل علاقہ کا دعویٰ کے فساد کے نتیجے میں املاک کونقصان پہنچایا گیا جبکہ 15 سے 16 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں تاہم ضلع مجسٹریٹ امیت کمار پانڈے اس واقعے کو مذہبی فساد تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ واقعے میں کوئی شہری زخمی نہیں ہوا تاہم کچھ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، یہ فرقہ وارانہ جھڑپ نہیں تھی۔
ان سے سوال کیا گیا کہ انتظامیہ اس واقعے کو مذہبی جھڑپ کیوں نہیں مانتی تو انہوں نے کہاکہ جس واقعے میں فریقین گتھم گتھا ہوتے ہیں اسے ہی مذہبی فساد کہا جاتا ہے جبکہ اس واقعے میں صرف پتھراؤ کیا گیا ہے۔
لڑکے کے دادا کو منگل کو ضمانت مل گئی۔ اس کے کزن آفتاب نے بتایا کہ اس کی ضمانت کی درخواست بھی اسی روز دائر کردی گئی تھی ۔”ہمارے دادا کی رہائی کیلیے درکار لوازمات ابھی پورے کرنا باقی ہیں،امید ہے میرا بھائی ایک دودن میں جیل سے رہا ہوجائے گا۔“
نوجوان انجینئر آفتاب نے غصے سے بتایا کہ اس کے کزن اور دادا کے ہاتھوں اور کمر کورسی میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔انہوں نےاپنے کزن کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک شرمیلا لڑکا ہے لیکن اپنی نماز کبھی نہیں چھوڑتا،وہ گاؤں کے قریب واقع اقرا پبلک اسکو ل میں چوتھی جماعت کا طالبعلم ہے۔بچے کی ایک اور کزن نے بتایا کہ وہ ایسا بچہ ہے جو صرف ضرورت کے وقت ہی بولتا ہے اور لڑائی جھگڑے میں پڑنا اسے پسند نہیں ہے۔
آفتاب نے مزید بتایا کہ بچے کے دادا تقریباً 7 سال قبل گاؤں کے سرپنچ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں،انہوں نے اس آدمی کو گرفتار کیا ہے جودوسروں کے مسائل حل کرتا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دادا ایک ماہ قبل معدے کے آپریشن کے لیے اسپتال میں داخل ہوئے تھے اور ابھی تک اس آپریشن سے صحت یاب ہو رہے تھے۔
بچے کے والد نوکری کی تلاش میں دہلی گئے ہوئے ہیں جنہیں گھر والوں نے وہیں رہنے کی ہدایت کی ہے،انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ گھر واپس آئے تو پولیس انہیں ہراساں کرے گی۔
بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ صرف5یا 10منٹ اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے، وہ ہر بار روتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس کا قصور کیا ہے اور وہ گھر کب آئے گا؟انہوں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹاجلد گھر آئے،وہ 8سال کے بچے کو ماں سے کیسے الگ کرسکتے ہیں؟









