کانگریس اور گاندھی لازم و ملزوم نہ رہے، پارٹی صدارت خاندان سے باہر ہوگئی

ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کرنے والی کانگریس پارٹی کی قیادت 25 سال  بعد پہلی بار گاندھی خاندان سے باہر جانے لگی، پارٹی انتخابات 22 ستمبر سے شروع ہوچکے ،900 سے زائد ارکان ووٹ ڈال کر نئے صدر کا انتخاب کریں گے

ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کرنے والی کانگریس پارٹی کی قیادت 25 سال بعد پہلی بار گاندھی خاندان سے باہر جانے والی ہے ۔ اشوک گہلوت  کانگریس کے نئے متوقع صدر  ہوسکتے ہیں ۔

بھارتی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس میں 25 سال بعد ایسے صدرکے منتخب ہونے کے امکانات روش ہوگئے ہیں جس کا تعلق براہ راسے گاندھی خاندان سے نہیں ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیے

غلام نبی آزاد کانگریس سے مستعفی، راہول گاندھی پر سنگین الزامات

راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت جوکہ متوقع طور پر نئے پارٹی صدر ہوسکتے ہیں نے گاندھی خاندان سے بے وفائی کرکے  کانگریس کی صدارت کے لیے اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے ۔

اشوک گہلوت  کے  زیر اثر ارکان اسمبلی کی جانب سے متوازی پارٹی  اجلاس نے بھی   کانگریس کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے تاہم راہول گاندھی پہلے ہی صدارت  کا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

کانگریس کی نے راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور ان کے ہمنوا ارکان اسمبلی کو متوازی اجلاس بلانے پر شوکاز نوٹس بھی جاری کیے ہیں جن میں ان سے جواب طلبی کی گئی ہے ۔

بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق  کانگریس 2024 کے انتخابات میں  بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کا مقابلہ کرنے کے لیے  پارٹی صفوں میں تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اشوک گہلوت اور جنوبی ریاست کیرالہ کے قانون ساز ششی تھرور پارٹی کی صدارت کے امیدوار کی حیثیت سے اس ہفتے کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں۔

سیکرٹری  کانگریس الیکشن اتھارٹی کےمطابق 22 ستمبر سے انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے ۔پارٹی کے تقریباً 9000 مندوبین نئے صدر کے لیے ووٹ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مودی کی مقبوضہ کشمیر میں عارضی مقیم بھارتی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ  ایک سے زیادہ امیدوار ہونے کی صورت میں 17 اکتوبر کو پولنگ ہو گی۔ پارٹی  ارکان نے متفقہ طور پر  پانچ سال کی مدت کے لیے نئے  صدر کا انتخاب  کرنا  ہے ۔

یاد رہے کہ نئے متوقع پارٹی صدر اشوک گہلوک  کا تعلق  جودھ پور   سے ہے  اور وہ 2 مرتبہ راجھستان کے وزیر اعلیٰ بھی رہے جبکہ آج کل   رکن اسمبلی بھی ہیں جبکہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں ۔

واضح رہے کہ  انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد  1885 میں رکھی گئی ۔پارٹی کی  بانی قائدین میں دادا بھائی نوروجی ، ڈنشا واچا، ومیش چندر بونر جی سریندر ناتھ بینر جی ، منموہن گھوش  شامل ہیں۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی آل انڈیا مسلم لیگ  میں شامل ہونے سے پہلے کانگریس کا حصہ تھے ۔ مو لانا ابوالکلام آزاد  کانگریس کے صدر بھی رہ چکے ہیں ۔

متعلقہ تحاریر