بھارتی سپریم کورٹ نے تمام خواتین کو محفوظ اسقاط حمل کا حق فراہم کردیا

بھارت کی  سپریم کورٹ نے شادی کے بغیر ٹھہرنے والے حمل کو گرانے کے حوالے سے عائد پابندیوں کو ختم کر تے ہوئے تمام خواتین کو محفوظ اسقاط حمل کا حق دے دیا، عدالتی فیصلے میں غیر شادی شدہ عورت کو اسقاط عمل کا اجازت دی گئی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے تمام خواتین کو محفوظ اسقاط حمل کا حق  فراہم کردیا ہے۔ عدالت حکمنامے میں غیرشادی لڑکیوں کو بھی اسقاط عمل کی اجازت دے دی ہے ۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے تمام خواتین کو محفوظ اسقاط حمل کی اجازت دے دی ہے ۔ عدالت نے شادی کے بغیر ٹھہرنے والے حمل کو گرانے کے حوالے سے عائد پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کانگریس اور گاندھی لازم و ملزوم نہ رہے، پارٹی صدارت خاندان سے باہر ہوگئی

سپریم کورٹ نے کہا کہ اکیلی اورغیر شادی شدہ عورت کو بھی حمل کے 24 ہفتوں تک میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ اور قواعد کے تحت اسقاط حمل کا حق حاصل ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا  گیا ہے کہ تولیدی خود مختاری کے حقوق غیر شادی شدہ عورت کو شادی شدہ خواتین کے برابر حقوق دیتے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی محفوظ اسقاط حمل کے  عالمی دن کے موقع پر  فیصلہ دیا کہ خواتین محفوظ اور قانونی اسقاط حمل کی حقدار ہیں خواہ ان کی ازدواجی حیثیت کچھ بھی ہو۔

عدالت نے یہ فیصلہ اس کیس کی سماعت کے بعد سنایا جس میں ایک غیر شادی شدہ خاتون  جو اپنی رضا سے ایک رشتے میں تھیں نے یہ  شکایت کی تھی کہ انہیں اسقاط حمل کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسقاط حمل  کا فیصلہ زندگی کی پیچیدہ حالات پر مبنی ہوتا ہے تاہم اس کا انتخاب صرف عورت ہی اپنی شرائط پر کر سکتی ہے ۔

متعلقہ تحاریر