جرمن اینکر پرسن ملیسا چین نے جنگ اخبار کی خبر کا پوسٹ مارٹم کردیا

ملیسا چین کا کہنا ہے کہ جو خبررساں ادارے میرے حوالے سے دھمکیوں کی خبر دے رہے وہ غلط ہیں۔

پاکستان کے مشہور روزنامے جنگ اخبار نے خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے سخت سوال کرنے پر جرمن اینکر پرسن ملیسا چین کو قتل اور ریپ کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ تاہم ملیسا چین نے خبروں کی تردید کردی ہے۔

جنگ اخبار کی خبر کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے جرمن اینکر پرسن ملیسا چین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "میں ایک صحافی ہوں۔ عمران خان نے میرے انٹرویو کے دوران جو محدود جوابات دیئے ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

ایلون مسک کا ٹوئٹر ملازمین کو حاصل لامحدود سہولیات کو محدود کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا روزانہ عوام سے ہزاروں گالیاں ملنے کا اعتراف

ملیسا چین نے مزید لکھا ہےکہ "میں اسی طرح سے ہمیشہ سے ٹوئٹر استعمال کرتی ہوں ، جن لوگوں کو پریشانی ہے وہ مجھ پر تبصرہ نہیں کرسکتے کیونکہ میں نے کمنٹس سیکشن بند کررکھا ہے۔”

انہوں نے مزید لکھا ہےکہ "جو بھی خبر رساں ادارہ ایسی کوئی خبر دے رہا تو غلط خبر دے رہاہے۔”

پاکستان کے صحافی مغیب علی نے ملیسا چین کو دھمکیاں ملنے کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے اینکر پرسن سے اظہار یکجہتی کے لیے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "ہائے! ملیسا۔۔۔ جنگ اخبار کے مطابق آپ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں اور آپ نے عمران خان کے انٹرویو کے بعد کمنٹ سیکشن بند کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے ؟۔”

مغیث علی نے مزید لکھا ہے کہ "میری تحقیق کے مطابق آپ نے تبصرہ سیکشن بہت پہلے بند کر دیا تھا۔”

واضح رہے کہ گزشتہ روز روزنامہ جنگ اخبار نے خبر دی کہ عمران خان سے سخت سوالات کرنے پر جرمن اینکر پرسن ملیسا چین کو قتل اور ریپ کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

متعلقہ تحاریر