افغانستان میں امریکی جنگ ہماری جنگ نہیں تھی، حامد کرزئی

سابق افغان صدر کا کہنا ہے طالبان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ عظیم افغانستان کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ڈائیلاگ شروع شروع کریں۔

تقریباً ایک سال کے عرصے کے بعد افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی خان کا ایمان جاگ گیا ، کہتے ہیں افغان عوام کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ نہیں تھا ، افغانستان کی طویل ترین جنگ ہماری جنگ نہیں تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کو اپنے دیئے گئے تازہ ترین انٹرویو میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے امریکی انتظامیہ پر کُھل کر تنقید کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق افغان صدر کا کہنا تھا بلاشبہ افغان عوام اس وقت مشکلات حالات سے دوچار ہیں اور حالات جس نہج کی جانب بڑھ رہے ہیں اس سے میں بہت زیادہ فکر مند ہوں۔ تاہم میں پرامید ہوں کہ ہم جلد ہی چیزوں کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم یہاں  کیوں ہیں اور ہم اس انتہائی مشکل صورتحال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔

سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ طالبان کبھی ایک جامع حکومت بناپائیں گے۔؟

حامد کرزئی کا کہنا تھا ہم نے دیکھا کہ ہمارے دور میں تمام افغان گروپ ایک پیج پر نہیں تھے ، کبھی ایک عنصر غائب ہوتا تھا تو کبھی دوسرا۔ طالبان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ عظیم افغانستان کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ڈائیلاگ شروع شروع کریں، تمام افغان گروپس آپس میں ایک معاہدہ کریں اور معاملات کو آگے بڑھائیں ، اس ملک کو آئین کی ضرورت ہے۔

س: مجھے یقین ہے کہ آپ نے طالبان کے ساتھ افغان مذاکرات کی ضرورت پر بات کی ہوگی۔ ان کا ردعمل کیا تھا؟

اس سوال پر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر میری آخری بات چیت پچھلے ہفتے طالبان کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے ہوئی تھی۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک بہتر افغانستان کے لیے قومی مکالمہ ناگزیر ہے، ایک معاہدہ ہے۔ اسے لانچ کرنے اور مکمل کرنے پر وقت لگے گا میں یہ نہیں کہتا کہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ میرے لیے یہ کہنا بہت قبل از وقت ہوگا۔ لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں پچھلے دو ہفتوں میں اس سے پہلے کے مقابلے میں بہتر آوازیں سن رہا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں حکومتوں کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ہم افغانستان میں نمائندہ حکومتیں چاہتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی کردار کے سوال پر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے موجودہ حالات کی ذمہ دار جتنی امریکی انتظامیہ ہے اتنی ہی افغانستان حکومتیں بھی۔ امریکہ کے ساتھ معاملات پر میرے بہت سے اختلافات اور جھگڑے ہوئے ہیں۔ لیکن میں سارا الزام امریکہ پر نہیں ڈالوں گا۔ ہم افغان بھی بہت سے طریقوں سے ذمہ دار ہیں۔

س: آپ بائیڈن انتظامیہ کی اس وقت افغانستان اور طالبان کے حوالے سے پالیسیوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے اثاثے منجمد کرنے کے جوبائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کی سختی سے مخالفت کرتا ہوں ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کا نصف حصہ نائن الیون کے متاثرین میں تقسیم کیاجانا چاہیے ، افغان عوام متاثرین کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے شکار امریکی خاندانوں کے ساتھ مکمل ہمدردی کرتے ہیں ، جن کے پیاروں نے 11 ستمبر کے سانحے میں جانیں گنوائیں اور ایک بڑے ظلم کا سامنا کیا۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ہم امریکی عوام اور امریکی حکومت کے ساتھ مضبوط ترین تعلقات چاہتے ہیں۔ لیکن یقیناً ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان تعلقات سے افغان عوام کو بھی فائدہ پہنچے۔

سوال: جوبائیڈن انتظامیہ کو مزید کیا کرنا چاہئے؟

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ انہیں افغانستان کو مستحکم کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔

س: کن طریقوں سے؟

سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ ایک بین الاقوامی کوشش کے ذریعے افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کی جانی چاہیے۔ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان امریکہ، روس اور چین کے درمیان دشمنی کا مرکز بنے۔ 19ویں صدی میں برطانوی اور زارسٹ روس کے درمیان ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان 20ویں صدی میں ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ آج ہم اس رجحان کو دوبارہ پھلتے پھولتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ … ہم یہ نہیں کہتے کہ امریکہ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، یا امریکہ کو اس خطے میں دلچسپی نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم امریکا کو ایسے طریقے اختیار کرنے چاہئیں جسے افغانستان یا افغان کو تکلیف نہ ہو۔

سوال: امریکا اور دنیا کو اعتماد حاصل کرنے کے لیے طالبان کو کیا کرنا چاہیے؟

اس سوال کا طویل جواب دیتے ہوئے سابق افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے افغانستان میں ایسی  حکومت قائم  ہونی چاہیے جہاں افغان عوام اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔ ہمیں ایک ایسی حکومت ملنی چاہیے جسے ملک کے اندر جائز سمجھا جاتا ہو ، اور اسے افغان عوام کی حمایت حاصل ہو۔ ہمارے اسکولوں کا مسئلہ دیکھیں۔ ہماری بچیاں سکول نہیں جا پا رہی ہیں۔ ملک سے بھاگنے والے افغانوں کو دیکھیں ، بڑھتی ہوئی غربت کو دیکھیں۔ اس میں سے کچھ بھی اس وقت تک بہتر نہیں ہوگا جب تک کہ لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں، جب تک کہ مواقع پیدا نہ کیے جائیں اور جب تک کہ تمام افغان عوام اپنے آپ کو اس ملک کے مالک کے طور پر نہ دیکھیں۔ جیسا کہ اس ملک کے آئین میں موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی  کا کہنا تھا گذشتہ حکومت کے خاتمے میں ان کو کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

افغان جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جنگ ہماری جنگ نہیں تھی۔ میں اس جنگ کے خلاف تھا۔ میں افغان عوام اور گھروں کے خلاف اس جنگ میں امریکہ کا ساتھی نہیں تھا۔ میں اس کے خلاف کھڑا تھا، اور میں نے اس کے خلاف کام کیا۔

ان کا کہنا تھا میں اس لمحے بدل گیا تھا جب مجھے سمجھ آئی کہ یہ جنگ جو دہشت گردی کو شکست دینے کے نام پر لڑی جارہی ہے دراصل افغان عوام کے خلاف جنگ ہے۔ میں امریکہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ یہ میرے اور امریکہ کے درمیان بنیادی مسئلہ تھا۔ اور میں نے اس وجہ سے طالبان کو "بھائی” کہا۔ کیونکہ افغان اس تقسیم کی وجہ سے دونوں طرف مارے جا رہے تھے ، یہ تفریق تھی جو غیرملکیوں نے اپنے مقاصد کے لیے ہم میں پیدا کی تھی۔

متعلقہ تحاریر