کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ کی نظربندی کے خلاف دائر درخواست واپس
وکیل برہان معظم کا کہنا ہے ڈیٹنشن آرڈر کے 90 دن گزرنے کی وجہ سے درخواست غیرموثر ہو گئی تھی۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کی نظربندی کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ سماعت کے دوران سعد رضوی کے وکیل برہان معظم نے موقف اختیار کیا کہ ہماری درخواست غیرموثر ہوچکی اس لیے ہم اس کو واپس لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم کے ریلیف پیکج کو مسترد کردیا
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے انڈیا کو سیمی فائنل تک پہنچنے کا راستہ بتا دیا
وکیل سعد رضوی کا کہنا تھا کہ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں دلائل مانگے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل برہان معظم کا کہنا تھا ہماری درخواست کی بنیاد وہ جو 90 دن کا ڈیٹنشن آرڈر( نظربندی کا حکم) تھا ، وہ 90 دن پہلے ہی گزر گئے اس لیے درخواست کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔









