بہاولپور کا سیاسی ڈھابہ عوام کی توجہ کا مرکز

 پاکستان کا واحد سیاسی ڈھابہ جہاں ہر پکوان کا نام سیاسی ہے۔

 پاکستان میں کھانے کی میز پر اور چائے کی محفل میں سیاسی گفتگو اور سیاست پر تبصرے کرنا ایک عام سی بات ہے۔ جبکہ عوامی مقامات پر جیسے ہوٹل اور  ریسٹورنٹ میں سیاسی گفتگو کرنا منع ہوتی ہے۔ مگرپاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں سیاسی گفتگو کرنے کے لیے ‘سیاسی ڈھابہ’ عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جہاں نہ صرف سیاسی کھانے اور چائے ملتی ہے بلکہ سیاسی گفتگو کرنے کی بھی مکمل اجازت دی گئی ہے۔

 پاکستان کا واحد سیاسی ڈھابہ جہاں ہر ڈش کا نام سیاسی ہے۔

سیاسی ڈھابہ

 

‘سیاسی ڈھابہ’ پاکستان میں کہاں ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کی مشہور شاہراہ سرکلر روڈ پرایک ریسٹورنٹ واقع ہے جس کا نام سیاسی ڈھابہ ہے۔

‘سیاسی ڈھابہ’ میں کون کون سے سیاست دان موجود ہیں؟

 اس ڈھابہ پرملک کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان سمیت مشہور سیاستدانوں کی ڈمیز موجود ہیں۔  تصویرکے ساتھ ان کے مشہور جملے لکھے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران کا مشہور جملہ ’سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘ ان کے مینو اور ریسٹورنٹ میں لکھا ہوا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے ۔ ’جب زیادہ چاہے آتاہے تو زیادہ مزہ آتاہے۔‘

سیاسی ڈھابہ

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تصویرکے ساتھ لکھا ہے کہ ’سیاسی ڈھابہ کی چائے پینے سے خلائی مخلوق اترآتی ہے‘ اور ’مجھے کیوں نکالا۔‘

سیاسی ڈھابہ

مسلم لیگ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ ’تیری آواز، میری آواز۔۔ سیاسی ڈھابہ۔‘

سابق صدر آصف علی زرداری کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ ’کھپے کھپے بہاولپورکھپے۔‘

سیاسی ڈھابہ

لیگی رہنما خواجہ آصف کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ ’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے!!۔‘

یہ بھی دیکھیے

بہاولپور کا نور محل نوابوں کے عہد کی یادگار

‘مینو دیکھ کر بھی آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔’ یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ یہ جملہ بھی "سیاسی ڈھابہ” کی انتظامیہ کی جانب سے مینو میں درج کیا گیا ہے۔

اس ریسٹورنٹ میں ہر ڈش سیاسی ہے مگر کچھ ڈشیز کچھ زیادہ ہی سیاسی ہیں جیسے بلاول چکن کڑاہی، مریم چکن ہانڈی، سیاسی چائے، بلورانی چائے، عوامی چائے سمیت اور بہت سی دلچسب ڈشز موجود ہیں۔

سیاسی ڈھابہ

 

سیاسی ڈھابہ

‘سیاسی ڈھابہ’کا منفرد خیال کیسے آیا؟

 سیاسی ڈھابہ بنانے کا منفرد خیال بہاولپور کے رہائشی کشف چشتی کو آیا۔ کشف چشتی نے نیوز 360 سے گفتگو میں بتایا کہ ’اکثر ہم دوست باہر کھانے پینے کےلیے جاتے تھے تو معمول کے مطابق سیاست پر بات چیت شروع ہوجاتی تھی مگروہاں سیاسی باتیں کرنا منع ہوتی تھیں اسی وجہ سے ہم اپنی بات مکمل نہیں کر پاتے تھے تو اس طرح میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نا ایک ایسا ریسٹورنٹ بنایا جائے جہاں سیاسی گفتگو کرنا منع نہ ہو۔‘

سیا سی ڈھابہ پر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں اور اس ریسٹورنٹ کو سہراتے بھی ہیں۔

لوگوں نے سیاسی ڈھابہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نیوز 360 کو بتایا کہ یہاں کا ماحول نہ صرف سیاسی ہے بلکہ دوستانہ بھی ہے اکثر دوست مل کر یہاں آتے ہیں لڈو اور تاش کھیلتے ہیں۔ خوب باتیں کرتے ہیں اور مز ے مزے سے سیاسی گفتگو کے ساتھ سیاسی چائے کے بھی مزے لیتے ہیں کیونکہ چائے کے ساتھ سیاسی گفتگو نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا۔

متعلقہ تحاریر