کراچی کے نجی اسکول میں اردو بولنے پر طالب علم کی تضحیک، ویڈیو وائرل

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں نجی اسکول میں بچے کو اردو بولنے پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے جس پر سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

کراچی: کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں ایک نجی اسکول میں اسکول کے اوقات میں اردو بولنے پر ایک کمسن بچے کے چہرے پر سیاہی لگا دی گئی جبکہ دیگر بچوں کی جانب سے بچے پر فقرے بازی بھی کی گئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بچے کے والد نے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

بچے کے والد نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ "اسکول میں اردو میں بات کرنے پر اس کے بیٹے کا مذاق اڑایا گیا اور اس کی قومی زبان میں بات کرنے کی سزا کے طور پر اسکول میں اس کے بیٹے کے چہرے پر کالی سیاہی لگا دی گئی۔”

یہ بھی پڑھیے

بزنس کمیونٹی انتخابات کی بجائے معاشی بحران کا خاتمہ چاہتی ہے، گورنر خیبرپختونخوا

آصف زرداری کے خلاف بیان دینے پر عمران خان پر حیدرآباد میں پرچہ کٹ گیا

بچے کے والد نے یہ بھی الزام لگایا "کہ ان کے بیٹے کا دوسرے بچوں کے سامنے مذاق اڑایا جاتا رہا ، اور مذاق اڑانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔”

بچے کے والد کا اپنے ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ "جب انہوں نے اس مسئلے پر اسکول کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کی تو انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے نجی اسکول سے جواب طلب کرلیا۔

ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تاحال تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تاہم تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو گردش کرنے کے بعد بہت سے لوگوں نے اس فعل کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے بچے کی خود اعتمادی پر حملہ قرار دیا جس سے بچے کی  ذہنی حالت متاثر بھی ہوسکتی ہے۔

ٹوئٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’اردو میں بات کرنا جرم بن گیا ہے، کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے سولائزیشن اسکول میں اردو میں بات کرنے پر طالب علم کی تضحیک کی گئی اور چہرے پر کالک لگائی گئی۔”

تاہم متاثرہ بچے موسیٰ عاطف کے والد کا کہنا ہے کہ مجھے پتا ہے یہ لوگ اب میرے بچے کو اسکول سے فارغ کریں گے اس سے پیشتر میں خود اپنے بچے اس کی عزت نفس کے لیے اب یہاں نہیں پڑھاؤں گا۔

متعلقہ تحاریر