وفاقی ادارہ شماریات فنڈز کی کمی کا شکار، پہلی ڈیجیٹل مردم شماری خطرے سے دوچار

ملک کی ساتویں اور پہلی ڈیجیٹل مردم شماری شروع ہونے میں محض 5 روز باقی ہیں لیکن وفاقی حکومت نے اب تک 34 ارب روپے میں سے صرف 10 ارب جاری کئے ہیں۔

پاکستان بیورو آف سٹیٹکس مردم شماری کے لیے فنڈز کو ترسنے لگا، مردم شماری میں محض چند روز باقی رہ گئے ، لیکن فنڈز تاحال نہ کافی ہیں۔

ملک میں عام انتخابات سے پہلے مردم شماری کی کوششیں ماند پڑنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے کیونکہ مطلوبہ فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی ادارہ شماریات کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی بلدیاتی انتخابات میں بے ضابطگیوں کا کیس : اے سی اورنگی کی کمیشن سے بدتمیزی

وزیراعظم اور کابینہ کے تمام ارکان کا تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ

ملک کی ساتویں اور پہلی ڈیجیٹل مردم شماری شروع ہونے میں محض 5 روز باقی ہیں لیکن وفاقی حکومت نے اب تک 34 ارب روپے میں سے صرف 10 ارب جاری کئے ہیں۔

باقی ماندہ ضروری فنڈز تاحال جاری نہ ہونے سے مردم شماری غیریقینی کا شکار ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔

فیلڈ آپریشن کیلئے گاڑیوں اور سیکیورٹی انتظامات میں مشکلات درپیش ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز نے بھی وفاقی ادارہ شماریات سے بھی فوری فنڈز مانگ لئے ہیں۔

نئی مردم شماری کیلئے فیلڈ ورک یکم مارچ سے یکم اپریل تک شیڈول ہے اور نئے عام انتخابات نئی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر ہونا ہیں، ایسے میں وفاقی ادارہ شماریات کو فنڈز کی کمی مردم شماری کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔

متعلقہ تحاریر