ملکی سیاسی تاریخ کو منفرد انداز میں بیان کرنے والے گلوکار واسو گاجانی سپردخاک
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے استاد واسو گاجانی کو شہزاد رائے نے دریافت کیا تھا، محکمہ پولیس کے سابق ملازم واسو گاجانی عارضہ تنفس میں مبتلا تھے

گلوکار شہزاد رائے کے گانے”اپنے الو“ میں یادگار پرفارمنس کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے بلوچ گلوکار واسو خان گاجانی عارضہ تنفس میں مبتلا ہونے کے بعد گزشتہ روز انتقال کرگئے۔
واسو خان سانس کی بیماری میں مبتلا تھے، گزشتہ شب سکھرکے نجی اسپتال میں دم توڑ گئے۔ واسو خان کو نماز جنازہ کے بعد آبائی گاؤں گورناڑی میں سپرد خاک کردیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیے
جنت مرزا نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا توڑ نکال لیا
ایف آئی اے نے سوشل میڈیا سے تاحال نازیبا مواد نہیں ہٹایا، ادکارہ مہوش حیات
لوک گلوکار واسو گاجانی نے تنقیدی شاعری سے بلوچستان میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا اور پاپ سنگر شہزاد رائے کے ساتھ کام کرکے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت پائی۔
واضح رہے کہ واسو خان نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو منفرد انداز میں بیان کرکے شہرت حاصل کی تھی۔ گلوکار شہزاد رائے نے 2011 میں یوٹیوب پر بلوچستان کے ایک گاؤں سے واسوخان کو ڈھونڈا تھا۔ جس کے بعد گلوکار شہزاد رائے نے واسو کے ساتھ مل کر ان کے منفرد انداز میں ایک مشہور گانا ’اپنے الو‘ پیش کیا تھا۔
واسو خان محکمہ پولیس بلوچستان میں درجہ چہارم کے ملازم تھے جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد باضابطہ طور پر گلوکاری شروع کی تھی۔فنکار واسو گاجانی نے اپنے آخری ایام انتہائی مفلسی میں گزارے وہ اپنے آبائی گاؤں گور ناڑی میں انتہائی سادہ زندگی بسر کررہے تھے۔









