معروف اینکر پرسن حامد میر کو معاشی ماہرین کا کرارا جواب

وفاقی حکومت کی چینی بینک آئی سی بی سی کے ساتھ 1.3 ارب ڈالر کی ڈیل کو سینئر صحافی حامد میر نے آئی ایم ایف کی شکست قرار دیا ہے جس پر معاشی ماہرین نے ان کے بیان پر تنقید کی ہے۔

وفاقی حکومت کی چینی بینک کے ساتھ ڈیل کو معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے اسے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی شکست سے تشبیہہ دی ہے جس غیرجانبدار معاشی ماہرین نے حامد میر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ چینی بینک کے ساتھ ڈیل کو آئی ایم ایف کی شکست کیسے قرار دے سکتے ہیں ، کیونکہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی ڈیل نہیں ہوتی تو جون تک جو 25 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں وہ کہاں سے کئے جائیں گے۔

سینئر اینکر پرسن اور معروف صحافی حامد میر نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "یہ آئی ایم ایف اور اس کے بین الاقوامی ہینڈلرز کی بڑی شکست ہے۔”

واضح رہے کہ جمعے کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا تھا کہ "چینی بینک آئی سی بی سی نے ضروری رسمی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 1.3 بلین امریکی ڈالر کے قرض کے رول اوور کی منظوری دے دی ہے۔جس کی ادائیگی حالیہ مہینوں میں پاکستان نے ICBC کو کرچکا ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

چینی بینک نے پاکستان کیلئے1.3 بلین ڈالر کے قرضے کی منظوری دے دی، وزیر خزانہ کا دعویٰ

وزیراعظم کو اظفر احسن کا خط؛ مقامی موبائل مینوفیکچرنگ یونٹ بندش سے آگاہ کیا

سینیٹر اسحاق ڈار کا یہ بیان بلومبرگ کی رپورٹ کے صرف ایک روز بعد آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ممکنہ ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہا ہے ، کیونکہ مشکلات کے شکار ملک پاکستان نے جون تک اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کرنی ہے جن کو پورا کرنے کے لیے وہ جدوجہد کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید لکھا تھا کہ "یہ سہولت 3 اقساط میں فراہم کی جائے گی، 500 ملین امریکی ڈالر کی پہلی ایک قسط اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو موصول ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔”

متعلقہ تحاریر